انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 133

۱۳۳ اور دوسرے مذاہب اس سے خالی ہوں گے ہاں ان کے ہوشیار پیرو ان خیالات کو چرا کر اپنے مذہب کی طرف منسوب کر رہے ہوں گے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے اس نقص کو دور کرنے کے لئے ایک تجویز پیش کی ہے جسے وہ ہمیشہ اپنے مضامین میں مدنظر رکھتے تھے اور جس کے مدنظر رکھنے سے مذکورہ بالا خرابی بالکل دور ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے وکیل اپنے مذہب کی طرف جو امر منسوب کریں اس کا ثبوت وہ اپنی مذہبی کتب سے دیں یعنی اپنی الہامی کتاب سے یا اس شخص کی تشریح سے جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہے۔اس شرط پر عمل کرنے سے وہ اخفاء کا پردہ جو سچائی پر پڑا رہتا ہے بالکل اٹھ سکتا ہے اور حقیقت کھل سکتی ہے اور خوب ظاہر ہو سکتا ہے کہ کونسا مذہب کامل ہے اور کونسے مذاہب ناقص جن کے پیروان کو کامل ظاہر کرنے کے لئے دوسرے مذاہب کی تعلیم چرا کر اس کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔چونکہ ریلیجس کانفرنس کے بانیوں نے اس قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی گو میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ جب ریلیجس کانفرنسیں ہوں تو ان میں یہ شرط رکھی جائے گی تاکہ لوگوں کے لئے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اس لئے دوسرے مذاہب کے قائم مقام تو اس شرط کا خیال غالباً اپنے مضامین میں نہیں رکھیں گے مگر میں اپنے لئے خود یہ قید مقرر کرتا ہوں کہ میں جو تعلیم اسلام اور احمدیت کی طرف منسوب کروں گا وہ وہی ہو گی جسے ہمارا مذہب پیش کرتا ہے نہ وہ جسے میں خود کہیں سے مستعار لے کر پیش کر دوں۔میں اول تو ہر بات کا ثبوت اپنی مذہبی کتب سے پیش کرتا چلا جاؤں گا اور اگر بعض جگہ بسبب طوالت حوالہ کو چھوڑ دوں تو ہر شخص کا حق ہے کہ وہ مجھ سے حوالہ کا مطالبہ کرے جس کی بناء پر میں نے اس تعلیم کو اسلام کی طرف منسوب کیا ہے۔اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔سو یاد رکھنا چاہئے کہ مذہب کی بڑی غرضیں چار ہیں۔اول یہ کہ وہ انسان کو اس کے مبدأ کے متعلق علم دے یعنی اس کے پیدا کرنے اور اس کے وجود میں لانے والے کے متعلق اس کو صحیح عقائد بتائے تاکہ وہ اس خزانۂ قوت و طاقت سے فائدہ حاصل کرنے سے محروم نہ رہ جائے او راپنی پیدائش کی غرض سے جسے پیدا کرنے والا ہی بتا سکتا ہے غافل نہ رہے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے چار باتوں کا بیان کرنا ضروری ہے۔1۔خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق اصل حقیقت کو بیان کرنا۔