انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 135

۱۳۵ 2۔ملکی اور سیاسی حقوق پر کہ کس احسن طریق پر ان کو ادا کیا جا سکتا ہے۔3۔آقا اور ملازم یا مالداروں اور غریبوں کے تعلقات پر۔4۔اس سلوک پر جو ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب کے لوگوں سے یا ایک بادشاہت کے لوگوں کو دوسری بادشاہت کے لوگوں سے کرنا چاہئے۔چوتھا مقصد مذہب کا انسان کے انجام کا بیان کرنا ہے۔یعنی یہ بتانا کہ انسان مرنے کے بعد کہاں جائے گا اس سے کیا سلوک ہو گا وغیرہ وغیرہ۔اس مقصد کی تکمیل کے لئے مندرجہ ذیل امور کا بیان کرنا ضروری ہے۔1۔کیا موت کے بعد انسان کے لئے کوئی بقاء ہے؟ اگر ہے تو کس رنگ میں؟ 2۔اگر کوئی بقاء ہے تو کیا اس بقاء کے ساتھ تکلیف یا خوشی کا کوئی سلسلہ وابستہ ہے؟ 3۔اگر وابستہ ہے تو اس کی کیا کیفیت ہے؟ 4۔آیا مرنے کے بعد بھی انسان کے لئے بدی سے نیکی کی طرف جانے کا کوئی راستہ کھلا ہے اگر ہے تو کس طرح؟ مذکورہ بالا چار مقاصدکے متعلق کسی مذہب کی تعلیم معلوم کر کے ہی اس کےد عویٰ کے متعلق صحیح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے اور میں ان مقاصد کے متعلق احمدیت کی تعلیم کو اس امید اور یقین کےساتھ پیش کرتا ہوں کہ جب آپ لوگ انصاف سے اس پر غو رفرمائیں گے تو آپ پر ثابت ہو جائے گا کہ اگر ان چاروں مقاصد کو کوئی مذہب پورا کرتا ہے تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔خدا تعالیٰ کے متعلق اسلام کی تعلیم جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں یہ مضمون چار سوالوں میں تقسیم ہے۔پس میں ان چاروں سوالوں کو باری باری لے کر ان کے متعلق اسلام کی تعلیم کو بیان کرتا ہوں۔(1)پہلا سوال۔مقصد اول کے متعلق یہ ہے کہ اس مذہب میں خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق کیا تعلیم دی گئی ہے؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام اللہ تعالیٰٰ کو ایک کامل ہستی بیان فرماتا ہے جس میں سب خوبیاں جمع ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کی ابتداء ہی ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سب تعریف کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ وہ سب جہانوں کا پیدا کرنے والا او ران کو پالنے والا ہے۔پس چونکہ ہر ایک چیز اس کی پیدا کی ہوئی اور اسی کی پرورش کی محتاج ہے اس لئے جو خوبیاں دنیا میں کسی اور چیز میں نظر آویں ان کی تعریف کا استحقاق