انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 107

۱۰۷ ہندوستان کے متعلق ہو سکتا ہے مگر آج وہ ایک حقیقت بنا ہوا ہے اور ہندوستانیوں کو پریشان کر رہا ہے۔(ب) جو امور کہ اس بین الا قوامی معاہدہ میں طے ہوں وہ صرف اسی صورت میں بدلے جاسکیں جب وہ مندرجہ ذیل حالات سے گزر جائیں۔(اول) وہ قوم جس پر معاہدہ کے کسی حصہ کے بدلنے کا اثر پڑتا ہے اس کی مجلس نوّاب کے منتخب شدہ نمائندوں کی تین چوتھائی اس تبدیلی کو پسند کرلے (دوم) اس کے بعد جب مجلس نمائند گان کانیا انتخاب ہو تو بشرطیکہ اس انتخاب اور پہلے فیصلہ میں کم سے کم دو سال کا فاصلہ ہو پھر مجلس نمائندگان میں اس تبدیلی کے سوال کو پیش کیا جائے۔اگر پھر بھی اس قوم کے نمائندے اس کو قبول کرلیں تو پھر تیسری دفعہ منتخب ہونے والی مجلس نمائندگان میں اس سوال کو پیش کیا جائے بشرطیکہ اس تیسری دفعہ کی منتخب شد ہ مجلس کا انتخاب دوسرے دفعہ کے فیصلہ کے دو سال بعد ہوا ہو۔جب اس طرح تین دفعہ کسی قوم کے نمائندوں کے تین چوتھائی ممبر کی اس معاہدہ میں تبدیلی کو پسند اور منظور کر لیں تو ایسی تبدیلی جائز ہو اور اسے کانسٹی ٹیوشن (CONSTITUTION) کی تبدیلی قرار دیا جائے۔لیکن اس پر بھی یہ مزید شرط لگائی جائے کہ اگر دس سال کے عرصہ میں پھراس قوم کے مجلس نمائندگان کے ممبر کی وقت کثرت رائے سے اصل معاہدے کی تجویز کردہ حالت کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کریں تو بعد کا تغیر کالعدم ہو کر پراصل معاہده پر عمل کیا جائے۔(ج) یہ کہ یہ معاہدہ ملک کی کانسٹی ٹیوشن میں داخل سمجھا جائے اور اس کے خلاف کرنے والی جماعت کو باغی قرار دیا جائے خواہ وہ اس وقت مجلس نمائند گان میں کثرت ہی کیوں نہ رکھتی ہو اور ملک کی حکومت پر قابض ہی کیوں نہ ہو۔اور اس کے خلاف ہر ممکن تدبیر کرنے کی اور اصل قانون کو قائم کرنے کی خواہ زور اور طاقت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو دوسری قوم یا قوموں کو اجازت ہو اور ان کا یہ فعل بغاوت قرار نہ دیا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے لوگ ان امور کو قبل از وقت کہیں گے لیکن پچھلی تاریخ اور موجودہ سیاست کے گہرے مطالعہ کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ ان امور کے آج ہی سے تصفیہ کر لینے کے بغیر قوموں میں باہمی اعتبار بھی پیدا نہیں ہو سکتا اور نہ قلیل التعداد قوموں کے حقوق محفوظ رہ سکتے ہیں۔ان کے بغیر اگر صلح ہو گی تو اس کے ساتھ یہ منافقت برابر جاری رہے گی کہ مسلمان بیرونی طاقتوں کے گھمنڈ اور ہندو اپنی تعداد، مال اور علم کی زیادتی کے