انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 106

۱۰۶ خواہ ظالم اپنا عزیز ہی کیوں نہ ہو اس وقت تک ضلع ہرگز قائم نہیں رہ سکتی۔اور اگر یہ رویّہ رہا کہ شاد آباد کے مظالم پر ہندو ؤں نے پر وہ ڈالنے کی کوشش کی۔اور مالا بار کے مظالم پر مسلمانوں نے توصلح کا خیال کبھی بھی حقیقت کا جامہ نہیں پہنے گا اور ملک خونریزی اور فساد کی آفتوں سے کبھی بھی محفوظ نہیں ہو سکے گا۔نواں ا مرجوصلح کے دائمی رکھنے کے لئے ضروری ہے اور جس کے بغیر ایک دوسرے پر اعتماد ہو ہی نہیں سکتا وہ یہ ہے کہ ایسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ یہ معاہدات ہمیشہ کے لئے قائم رہیں اور اس امر کا امکان نہ رہے کہ جب کوئی کثر التعداد جماعت اس امر کو محسوس کرے کہ اب مجھے قلیل التعداد جماعتوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں اور میں اس کی مدد کے بغیر کام چلا سکتی ہوں تو وہ ان معاہدات کے خلاف قانون پاس کر دے یا یہ قانون پاس کر دے کہ اب ان معاہدات کی ضرورت نہیں رہی۔عام ملکی قواعد کی رو سے ہر ایک حکومت کی کثرت رائے کو ایسا حق حاصل ہے اور وہ ایسا کر سکتی ہے پس اس کا سد باب ضروری ہے کہ آئندہ کبھی ان کو مذکورہ بالا معاہدہ میں تبدیلی نہ ہو سکے مگر ساتھ ہی اس امر کا خیال ضروری ہے کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ جن کی موجودگی میں وہی قوانین جو آج قلیل التعداد جماعتوں کے لئے رگِ گردن کی طرح ضروری ہیں کل اس جماعت اور تمام ملک کے لئے مُضِرّ ہوں مثلاً انتخاب جداگانہ کا قاعدہ ہی ہے اگر تمام اقوام میں کامل اعتماد پیدا ہو جائے اور دلی کدورتیں بالکل صاف ہو جائیں تو اس وقت اس قاعده پر کاربند رہناایسا ہی مُضِرّ ہو گا جیسا کہ اس وقت اس کا ترک کرنا۔پس کوئی ایسی راہ بھی کشادہ رہنی چاہئے جس کے ذریعہ سے ایسے اوقات میں ازالہ نقص کیا جا سکے۔ان سب امور کالحاظ میرے نزدیک مندرجہ ذیل اصول کے قبول کر لینے سے ہو جاتا ہے۔الف) ان اقوام و مذاہب کو جو اس وقت ہندوستان میں موجود ہیں ہندوستان سے باہر نکالنے یا ان کے حقوق کو دوسری اقوام کے مقابلہ میں محدود کرنے کا فیصلہ کرنے کا بھی کسی کثیر التعد اد جماعت یا جماعتوں کو حق نہ ہو گا۔یہ شرط گو اس وقت مضحکہ انگیز معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ہندوستانی کے طور پر حکومت خود اختیاری کے متمنّی ہیں تو ان کو ایسے امکانات کے احتمال کو بھی ماننا پڑے گا۔اس قسم کا خیال آج سے پندرہ سال پہلے مشرقی افریقہ کے متعلق ایسا ہی محکمہ انگیز تھا جیسا کہ آج کل مذکورہ بالا خیال