انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 108

۱۰۸ فخر میں زبان سے گو کچھ کہیں دلوں میں کچھ اور ہی کھچڑ یاں پکاتے رہیں گے لیکن مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لینے سے میں امید کر آہوں کے اعتماد اور اعتبار کی صورت پیدا ہو جائے گی اور اختلافات یا پیداہی نہ ہوں گے یا ان کا فو راً سدِّباب ہو سکے گا۔اس جگہ یہ بھی لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ان تدابیر پر کامل طور پر عمل تبھی ہو سکتا ہے جب علاوہ قومی مجالس کے کانگرس جو سب ملک کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اس کی بنیاد بھی انہی اصول پر رکھی جائے جو مسلم لیگ کے متعلق میں اوپر بیان کر چکا ہوں اور حقیقی طور پر سارے ملک کی قائم مقائم ہو جس طرح کہ اب وہ خاص خیال کے لوگوں کی قائم مقام ہے کیونکہ اس صورت میں کانگرس تمام قومی مجالس کے لئے بمنزلہ ایک میزبان کے ہو جائے گی اور معاہدات کی پابندی کرانے میں ایک زبردست آلہ کا کام دیگی مگر جب تک وہ اپنے دروازہ کو سب قسم کے خیالات کے لوگوں کے لئے نہ کھولے اور مخالف خیال رکھنے والی جماعتوں کو اپنے صحن سے باہر کام کرنے پر مجبور کرتی رہے اس سے ایسی امید رکھنی ناممکن ہے۔اے برادران! یہ مختصر خاکہ ہے اس سکیم کا جس پر عمل کرنے سے میرے نزدیک مسلمانوں کے اپنے حقوق بھی محفوظ ہو سکتے ہیں اور دوسری قوموں سے بھی ان کے تعلقات درست ہو سکتے ہیں۔میں نے باوجود کم فرصتی اور کاموں کی کثرت کے آپ لوگوں کے سامنے اس سکیم کو پیش کر دیا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ جس اخلاص سے یہ لکھی گئی اسی اخلاص سے آپ اس پر غور فرمائیں گے۔مسلمانوں کی بہتری اور ہندوستان کی کل دنیا کے امن کا خیال جس زور سے میرے دل میں موجزن ہے آپ لوگ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ اس امر پر شاہد ہے کہ میرا سینہ آپ لوگوں کی خیر خواہی کے جذبات سے پُر ہے اور میرے دماغ ان خیالات سے معمور – میں یہ نہیں کہتا کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کا ایک لفظ بھی بدلا نہیں جا ساگر میں آپ کو یقین دلا تا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کی حقیقت اور اس کا مغز بالکل درست ہے اور خداتعالی کےمنشاء کے مطابق اور اس کی مشیّت کے موافق ہے ان میں سے کئی باتیں ایسی ہیں جن کی پہلے زمانہ مخالفت کرتا تھا مگر آج خود ادھر چلا آرہا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ آئندہ واقعات ان کی تصدیق کر دیں گے مگر انشاء اللہ تعالیٰ آپ لوگ دیکھیں گے کہ ہو گا اسی طرح جس طرح میں نے لکھاہے صلح اور امن دنیا کی اہم ضروریات میں سے ہیں اور اس ذریعہ کو اختیار نہ کریں تو ہم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس جب تک ہم اس ذریعہ کو اختیار نہیں کریں گے جو صلح کے قیام کے لئے ممد ہے