انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 280

۲۸۰ اٹھتے۔سفر میں جب لوگ اونٹوں کو تیز کرتے تو آپؐ فرماتے کہ شیشوں کا بھی خیال رکھو یعنی عورتیں ساتھ ہیں وہ تمہاری طرح تکلیف برداشت نہیں کر سکتیں اس لئے آہستہ چلو تا ان کو تکلیف نہ ہو۔خاوندوں کو حکم دیا کہ سفر سے واپس آتے ہوئے گھر میں اچانک نہ داخل ہوں بلکہ دن کے وقت اور پہلے سے مطلع کر کے آئیں تاکہ عوریں گھر کی اور بدن کی صفائی کا اہتمام کر لیں۔عورتوں کے متعلق یہ بھی حکم دیا کہ ان کو ان کے بچوں سے جدا نہ کیا جائے جس میں ایک عام قاعدہ بتایا ہے کہ عزیزوں اور رشتہ داروں کو آپس میں جدا نہ کرنا چاہئے بلکہ ان کوآپس میں ملنے کا موقع دیتے رہنا چاہئے۔آپس کے تعلقات کو قطع کرنے والے سب امور سے منع فرمایا ہے مثلاً یہ کہ کوئی کسی شخص پر الزام نہ لگائے اور اگر کوئی بدکاری کا الزام لگائے اور اس کو ثابت نہ کر سکے تو اسے سخت سزا دی جائے۔اسی طرح حکم دیا کہ نکاح پر نکاح کی درخواست نہ دے۔اگر معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص کسی جگہ رشتہ کی تحریک کر رہا ہے تو گو اسے معلوم ہو کہ اگر میں درخواست دوں تو مجھے کامیابی کی زیادہ امید ہے اس وقت تک خاموش رہے جب تک پہلی درخواست کا فیصلہ نہ ہو جائے۔" عام شہریت کے أصول ایک مسلمان شہری کے جو کام اسلام نے مقرر کئے ہیں اب میں ان میں سے بعض کا ذ کر کرتا ہوں۔ایک حق اسلام نے یہ مقرر کیا ہے کہ ہر ایک آدی محنت کر کے کھانے اور سست نہ بیٹھے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔بہترین رزق وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے مہیا کرے اور فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کی عادت تھی کہ وہ ہاتھ کی محنت سے اپنارزق پیدا کرتے تھے۔۲۴۔ایک فرض مسلم شہری کا اسلام نے یہ مقرر کیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔رسول کریم ﷺ اس امر کے متعلق خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور ہمیشہ سوال سے لوگوں کو منع کرتے رہتےتھے۔۵۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا سوال صرف تین شخصوں کو جائز