انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 206

۲۰۶ یہ تو ایک اشد مخالف کی تحریری رائے ہے۔اس رائے کے علاوہ بھی ہر اک شخص جو آپ کا جاننے والا ہے وہ آپ کی نیکی کا قائل اور معترف ہے۔قادیان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ہندو بھی، آریہ بھی، سکھ بھی اور غیر احمدی مسلمان بھی۔قادیان کے دروازہ بٹالہ میں مسیحیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے یہ سب لوگ آپ کے سخت ترین دشمن ہیں بلکہ جس قدر دشنی ان لوگوں کو ہے اور کسی کو شاید نہ ہو گی کیونکہ نبی اپنے شہر اور اپنے علاقہ میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا مگر باوجود اس عدوت کے سب لوگ معترف ہیں کہ بچپن سے لے کر آخر عمر تک آپ کی نیکی اور تقویٰ ناقابل گرفت و اعتراض تھا۔آپ کی صداقت پر لوگوں کو ایسا یقین تھا کہ آپ کے خاندان کے ساتھ جن لوگوں کے دیوانی مقدمات ہوتے تھے اگر وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں تو ہمیشہ یہ تجویز پیش کر دیتے ہیں کہ جو کچھ آپ کہہ دیں گے وہ ان کو منظور ہو گا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ کبھی خلاف حق بات نہیں کہیں گے خواہ اس میں آپ کا یا آپ کے رشتہ داروں کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ایک دفعہ آپ ایک مقدمہ ڈاک خانہ کی طرف سے چلایا گیا جس میں جرمانہ اور قید دونوں سزائیں مل سکتی تھیں۔چونکہ ڈاک خانہ کے قواعد کی خلاف ورزی اس زمانہ میں کثرت سے ہوتی تھی ڈاک خانہ والے چاہتے تھے کہ ایک دو شخصوں کو سخت سزا ہو جائے تو آئندہ لوگ احتیاط کریں گے۔اس لئے ڈاک خانہ کا انگریز افسر خود پیروی کے لئے آتا اور پورا زور دیتا کہ آپ کو سزا ہو جائے۔اس مقدمہ کی بناء صرف اس شخص کی شہادت پرتھی جس نے آپ کا بھیجا ہوا پیکٹ کھولا تھا جس میں ایک خط تھا اور خط کا پیکٹ میں بھیجنا قوانین ڈاک کے مطابق جرم تھا۔وکلاء نے کہا کہ بچنے کی صرف یہ صورت ہے کہ آپ کہیں کہ میں نے خط الگ بھیجا تھا۔وہ شخص جس کے نام پیکٹ تھا چونکہ پادری تھا اور آپ سے مباحثات کر چکا تھا اور ایک رنگ میں آپ سے عداوت رکھتا تھا یہ عذر آپ کا یقینی طور پر قابل قبول تھا مگر آپ نے صاف انکا رکر دیا اور کہا کہ میں جھوٹ کس طرح بول سکتا ہوں میں نے واقع میں خط بھیجا ہے۔گو یہ سمجھ کر اسے پیکٹ میں ڈال دیا تھا کہ وہ بھی مضمون پیکٹ کے متعلق تھا۔مجسٹریٹ پر اس امر کا اس قدر اثر ہوا کہ باوجود ڈاک خانہ کے افسروں کے اصرار کے اس نے آپ کو بری کر دیا اور کہا کہ جو شخص قید ہونے کے خطرہ میں ہے اور منہ کے ایک فقرہ سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے لیکن کوئی پرواہ نہیں کرتا اور جھوٹ نہیں بولتا میں اسے ہرگز سزا نہیں دے سکتا۔