انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 205

۲۰۵ حضرت مسیح ناصری جو اللہ تعالیٰ کے ہادیوں میں سے ایک ہادی تھے اور اسی جماعت کے ایک فرد تھے جن میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔آپ کی زندگی بھی جیسا کہ ضروری تھا نہایت پاکیزہ اور صاف تھی حتیٰ کہ آپ نے اپنے دشمنوں کو چیلنج دیا تھا کہ "کون تم میں سے مجھ سے گناہ ثابت کر سکتا ہے؟ " مگر یہ دعویٰ پہلی ہی زندگی کے متعلق ہو سکتا تھا۔ورنہ نبوت کے بعد کی زندگی پر لوگ بوجہ تعصب سے اندھا ہو جانے کے معترض تھے چنانچہ خود حضر ت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں۔"ابن آدم کھاتا پیتا آیا اور وہ کہتے ہیں دیکھو کھاؤ اور شرابی آدمی۔محصول لینے والوں اور گنہاگاروں کا یار۔" مسیح ایسا نہ تھا بلکہ ان لوگوں کی آنکھوں پر بوجہ تعصب پٹی بندھ گئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی بھی قدوسیت کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی اور نبوت سے پہلے زمانہ کی زندگی کے متعلق آپ کے سخت سے سخت دشمنوں ک شہادتیں موجود ہیں کہ اس پر کوئی عیب نہیں لگایا جا سکتا۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو دعویٰ کے بعد آپ کا سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا وہ آپ کی زندگی کے متعلق اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھتا ہے۔"اس کا مؤلف بھی (حضرت مسیح موعود کی ایک کتاب کا جو مسیحیت کے دعویٰ سے پہلے لکھی گئی تھی نام ہے) اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔" اس رائے میں سے حالی نصرت کے الفاظ قابل غور ہیں۔ان کے یہ معنی ہیں کہ جو نمونہ اخلاق اور اعلیٰ چال چلن کا آپ نے دکھایا ہے وہ ایسا ہے کہ اس کو دیکھ کر لوگوں کو اسلام کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے اور وہ ایسا کامل نمونہ ہے کہ پہلے مسلمانوں میں بھی اس کی نظیر بہت کم پائی جاتی ہے۔تمام مذاہب کے پیروؤں کو پہلے لوگوں کی عزت کے قیام اور ان کے درجہ کو بڑھا کر دکھانے کا جس قدر شوق ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک مولوی کے لئے یہ لکھنا کس قدر مشکل ہے کہ فلاں شخص پہلے مسلمانوں سے بھی بڑھ گیا ان مولوی صاحب کی شہادت اس وجہ سے اور بھی زیادہ عظمت رکھتی ہے کہ آپ قادیان کے پاس کے رہنےو الے تھے اور بچپن سے آپ کے واقف تھے اور آپس میں برابر ملاقات ہوتی رہتی تھی۔