انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 207

۲۰۷ مجھے سب سے زیادہ ایک بوڑھے شخص کی شہادت پسند آیا کرتی ہے۔یہ ایک سکھ ہے جو آپ کا بچپن کا واقف ہے وہ آپ کا ذکر کرکے بے اختیا ررو پڑتا ہے اور سنایا کرتا ہے کہ ہم کبھی آپ کے پاس آ کر بیٹھتے تھے تو آپ ہمیں کہتے تھے کہ جا کر میرے والد صاحب سے سفارش کرو کہ مجھے خدا اور دین کی خدمت کرنے دیں اور دنیوی کاموں سے معاف رکھیں۔پھر وہ شخص یہ کہہ کر رو پڑتا کہ "وہ تو پیدائش سے ہی ولی تھے " ایک غیر مذہب کا شخص جس نے آپ کی زندگی کے سب دور دیکھے ہیں اور آپ کے راز سے پوری طرح واقف ہے اس کی یہ شہادت معمولی شہادت نہیں ہے اوراسی پر منحصر نہیں۔ہر شخص جو جس قدر آپ کا زیادہ واقف ہے اسی قدر آپ کے اخلاق اور آپ کے تقویٰ اور آپ کی ہمدردی بنی نوع انسان کی تعریف کرتا ہے اور یہی معیار اعلیٰ اخلاق کا ہوتا ہے کہ اپنے اور بیگانے جو کسی شخص کی تمام زندگی کے حالات سے واقف ہوں وہ اس کی دیانتداری اور تقدس کی تعریف کریں۔آپ نے خود بھی اپنے مخالفوں کو مسیح ناصری کی طرح ان الفاظ میں چیلنج دیا ہے مگر کوئی مقابل پر نہیں آیا۔"میں چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں اور اس مدت دراز تک تم مجھے دیکھتے رہے ہو کہ میرا کام افتراء اور دروغ کا نہیں ہے اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اس قدر مدت دراز تک یعنی چالیس برس تک ہر اک افتراء اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ برخلاف اپنی عادت قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے لگا۔" پھر فرماتے ہیں۔"کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا۔" ان شہادتوں اور دعووں سے ظاہر ہے کہ آپ کی زندگی نہ صرف عیوب سے پاک تھی بلکہ آپ کو ایسا تقویٰ نصیب تھا کہ آپ کےدشمن بھی گو آپ کے دعویٰ میں آپ کو غلطی پر قرار دیتے تھے مگر وہ آپ کے ذاتی تقویٰ اور طہارت کے متعلق متفق اللسان ہو کر گواہی دیتے