انوارالعلوم (جلد 7) — Page 91
۹۱ نجات ادھر جاتا ہو گا تو ایک بھیلی اُٹھاکر کھالیتا ہوگا۔اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں کی خدا نے کیا مدد کی کہ اسے نہ مال ملانہ حکومت ملی وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ شخص جس نے کہا تھا کہ بادشاہ کے گھرگڑ بھرا پڑا ہوگا۔خدا تعالی ٰکے پیارے ان باتوں سے بہت اوپر نکل چکے ہوتے ہیں اور ان کی اصل نصرت اور مدد یہی ہوتی ہے کہ ان کا جو مقصد ہوتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے۔قرآن کریم کی روسے مال کاملنا کوئی کامیابی نہیں۔خداتعالی ٰفرماتا ہے۔ایحسبون انما نمدھم بہ من مال وبنين – نسارع لهم في الخيرت بل لا يشعرون ۵۰ کیا گمان کرتے ہیں یہ لوگ کہ مال اور بیٹے جو ان کو دیئے گئے ہیں یہ ان کی خوشی کا باعث ہوں گے یہ تو جانتی نہیں کہ خدا کی محبت کیا چیزہے۔پس اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ باوجود ساری دنیا کی مخالفت کے اس تعلیم کو جسے لے کر وہ آتے ہیں دنیا میں پھیلا دیتے ہیں حالانکہ لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ تعلیم دنیا میں پھل ہی نہیں سکتی۔تیری فعلی شہادت یہ ہے کہ اگر ایسے انسان کے دشمن شرارت سے باز نہ آئیں تو ہلاک کئے جاتے ہیں۔جب دشمن مخالفت میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰٰ ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیتا ہے۔چوتھی فعلی شہادت یہ ہے کہ ایسے انسان سے نیک لوگ محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔اس کی وجہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ایک انسانوں کو خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے اور جب خدا تعالی ٰاپنے کسی پیارے سے بہت کرتا ہے تو وہ بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب خدا تعالی ٰکسی سے پیار کرتا ہے فرشتوں کو اس سے پیار کرنے کا حکم دیتا ہے وہ آگے اوروں کو کہتے ہیں اور ہوتے ہوتے جو لوگ زمین میں نیک ہوتے ہیں ان کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔یہ مقام نجات کا جس میں انسان کو پورے طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ نجات پاگیا صرف اسلام میں ہی ہے غیرمذاہب والے اس کا دعوی بھی نہیں کرتے۔پس ثابت ہوگیا کہ اسلام ہی یقینی نجات دے سکتا ہے اور دوسرے مذاہب اس سے ادنی ٰدرجہ کی نجات بھی نہیں دے سکتے کیونکہ ہر بات کے لئے نمونہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان میں نجات یافتہ کا کوئی نمونہ ہیں۔پس وہ نجات دینے سے محروم ہیں۔