انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 92

۹۲ نجات مدارج کے لحاظ سے نجات کی قسمیں اب یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مدارج کے لحاظ سے نجات کی دو قسمیں ہیں ایک کو غیر حقیقی کہناچا ہیے اور دوسری کو حقیقی۔غیرحقیقی وہ نجات ہے جس میں اس قدر پختگی حاصل نہیں ہوتی کہ انسان اپنی جگہ سے نیچے گرنے سے محفوظ کہلا سکے اس کے متعلق خطرہ ہوتا ہے کہ اس مقام سے گر جائے۔اس حالت کا نقشہ قرآن کریم میں اس طرح کھینچا گیا ہے وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُۚ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِۚ-اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْؕ-ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۚ-فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ خد اتعالیٰ فرماتا ہے۔ان کو سنااس شخص کا حال جس کو ہم اپنے نشان دیتے ہیں (یہ نجات پرہی ملتے ہیں) پھروہ اس طرح ہمارے نشانوں کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے جس طرح سانپ اپنی کینچلی اتار کر پھینک دیتا ہے اور خالی کا خالی نکل جاتا ہے۔اس وقت شیطان اس کے پیچھے ہو لگتا ہے اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہو جاتا ہے۔اگر ہم پسند کرتے (یعنی یہ دیکھتے کہ یہ ہماری نصرت کے استحقاق کو کھونہیں بیٹھا) تو اسے انہی نشانوں کے سہارے اس مقام پر لے جاتے جہاں وہ اس خطرہ سے محفوظ ہو جاتا۔مگروه زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہشات کامطیع ہو گیا اور اس کی مثال کتے کی سی ہو گئی جس کے پیچھے دو ڑو تو بھی اپنی زبان نکال لیتا ہے اور نہ دوڑوتو بھی۔یعنی اس کے اخلاق پھر اس طرح گر جاتے ہیں کہ وہ مقابلہ ہو یا نہ ہو بے وجہ لوگوں پراپنی زبان دراز کرتا رہتا ہے۔ان آیات سے یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں۔(1) بعض انسان آیات کے حصول کے بعد بھی گر جاتے ہیں۔(۲) اس گرنے کا سبب ان کے نفس سے پیدا ہوتا ہے۔شیطان ان کے گرنے کے بعد آتا ہے نہ کہ شیطان کے سبب سے وہ گرتے ہیں۔وہ ایسے مقام پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ شیطان وہاں نہیں جاسکتا۔وہاں ان کانفس ہی ہو تا ہے جو انہیں نیچےگراتا ہے۔(۳) ان کے گرنے کے بعد شیطان ان کے پیچھے پڑ جاتا ہے کیونکہ اس وقت وہ اس کے اثر کے حلقہ میں آجاتے ہیں۔(۴) یہ گرنا دنیاوی اغراض اور فوائد کی وجہ سے ہوتا ہے جیسا کہ اخلدالى الأرض سے ظاہر ہے۔