انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 90

۹۰ نجات (۳) جب مقابلہ ہوتا ہے تو ایسے انسان کی دعا سنی جاتی ہے اور دوسروں کی رد کی جاتی ہے یہ بھی دوست سے دوست کے سلوک کی مثال ہے۔یوں تو ہر ایک شخص ہر کسی کی بات مان لیتا ہے لیکن اگر اس کے دوست کے مقابلے میں اگر کوئی بات منوانا چاہے تو پھر نہیں مانتا۔اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے سب مذاہب کے پیروؤں کو چیلنج دیا تھا کہ سب مل جاؤ اور مل کر دعا کے ذریعہ مقابلہ کرو پھر معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کس کی دعاسنتا ہے اور کس کی رد کرتاہے۔(۴) اس کی دعاؤں کی قبولیت خارق عادت طور پر ہوتی ہے جو عام طبعی قانون کو توڑ ڈالتی ہے۔جیسے حضرت مسیح موعودؑ کی دعاسے ایک لڑکا عبدالکریم دیوانے کتے کے کاٹنے پر بیمار ہو کر بچ گیاحالا نکہ ڈاکٹرمانتے ہی نہیں کہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے۔(۵) جس طرح ایک دوست چاہتا ہے کہ دوست اس سے کچھ مانگے اسی طرح خدا تعالیٰ ایسے انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ کچھ مانگے اور پھر اسے دیا جائے۔حضرت مسیح موعود ؑکا الہام ہے چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج اس کا مطلب یہی ہے کہ مانگو۔دو سری فعلی شہادت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کو مدد اور نصرت دیتا ہے مگر اس سے مراد مال و دولت ،حکومت و سلطنت نہیں بلکہ یہ ہے کہ جس مقصد کو لیکر وہ کھڑا ہوتا ہے اس میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ایسے لوگوں کو دنیا کے مال و اسباب اور حکومت وغیرہ کی تڑپ ہی نہیں ہوتی بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے تڑپ ہوتی ہے اور یہ پوری ہو جاتی ہے۔ایسے انسانوں کے متعلق یہ خیال کرنا کہ ان کو مال کیوں نہیں ملتا،حکومت کیوں نہیں ملتی، ایسا ہی امرہے جیسے کوئی بچہ خیال کرے کہ فلاں شخص کی لوگ عزت کرتے ہیں اس کو لڈو کیوں نہیں دیتے یا کھلونے کیوں نہیں دیتے؟ کہتے ہیں کچھ دیہاتی بیٹھے بحث کر رہے تھے کہ بادشاہ کیا کھاتا ہو گا؟ کوئی کہے فلاں چیز کھاتا ہوگا کوئی کہے نہیں فلاں چیز کھاتا ہو گا۔ایک بڈھاجو دیر تک خاموش بیٹھاسنتا رہا تھا آخر اس سے نہ رہا گیا اور بے اختیار ہو کر بولا تم لوگ کیسے بے وقوف ہو کہ ان کھانوں کا نام لیتے ہو۔بادشاہ نے ایک کو ٹھڑی گڑ کی اور اور ایک ادھر بھروا کر رکھی ہو گی ادھر جاتا ہو گا ایک بھیلی اٹھا کر کھالیتا ہو گا۔