انوارالعلوم (جلد 7) — Page 542
۵۴۲ لوگوں نے اس نشان سے فائدہ نہ اٹھایا اور تجھے قبول نہ کیا تو ان پر ایک عام عذاب نازل ہوگا چنانچہ آ پؑ کے اپنے الفاظ یہ ہیں-: وحاصل الکلام ان الکسوف والخسوف ایتان مخوفتان واذا اجتمعا فھو تھدید شدید من الرحمن واشارہ الی ان العذاب قد تقرر واکد من اللہ لاھل العدون ) یعنی کسوف وخسوف اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے دو ڈرانے والے نشان ہیں اور جب اس طرح جمع ہو جائیں جس طرح اب جمع ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے بطور تنبیہہ اور اس بات کی طرف اشارہ ہوتے ہیں کہ عذاب مقرر ہو چکا ہے ان لوگوں کے لیے جو سرکشی سے باز نہ آویں اس کے بعد اللہ تعالیٰٰ نے اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لیے آپ ؑکے دل میں تحریک کی کہ آپ ؑایک وباء کے لیے دعا کریں چنانچہ آپ اپنے ایک عربی قصیدے میں جو ۱۸۹۴ء میں چھپا ہے فرماتے ہیں فلما طغی الفسق المبید بسیلہ تمنیت لو کان الوباء المتبر فان ھلاک الناس عند اولی النھی احب واولی من ضلال یخسر یعنی جب ہلاک کر دینے والا فسق ایک طوفان کی طرح بڑھ گیا تو میں نے اللہ تعالیٰٰ سے چاہا کہ کاش ایک وباء پڑے جو لوگوں کو ہلاک کر دے- کیونکہ عقلمندوں کے نزدیک لوگوں کا مر جانا اس سے زیادہ پسندیدہ اور عمدہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ تباہ کر دینے والی گمراہی میں مبتلا ہو جائیں- اس کے بعد ۱۸۹۷ء میں آپ نے اپنی کتاب سراج المنیر میں لکھا کہ اس عاجز کو الہام ہوا ہے یامسیح الخلق عدوانا یعنی اے خلقت کے لیے مسیح ہماری متعدد بیماریوں کے لیے توجہ کر پھر فرماتے ہیں’’ دیکھو یہ کس زمانے کی خبریں ہیں اور نہ معلوم کس وقت پوری ہوں گی` ایک وہ وقت ہے جو دعا سے مرتے ہیں اور دوسرا وہ وقت آتا ہے کہ دعا سے زندہ ہونگے-‘‘ جس وقت یہ آخری پیشگوئی شائع ہوئی ہے اس وقت طاعون صرف بمبئی میں پڑی تھی اور ایک سال رہ کر رک گئی تھی اور لوگ خوش تھے کہ ڈاکٹروں نے اس کے پھیلنے کو روک دیا ہے مگر اللہ تعالیٰٰ کی طرف اطلاعیں اس کے برخلاف کہہ رہی تھیں جب کہ لوگ اس مرض کے حملے کو ایک عارضی جملہ خیال کر رہے تھے اور پنجاب میں صرف ایک دو گاؤں میں یہ مرض نہایت قلیل طور پر پایا جاتا تھا- باقی کل علاقہ محفوظ تھا اور بمبئی کی طاعون بھی بظاہر دبی ہوئی معلوم ہوتی