انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 543

۵۴۳ تھی اس وقت آپؑ نے ایک اور اعلان کیا اور اس میں بتایا کہ ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لیے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو ۶ فروری ۱۸۹۸ء روز یک شنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں- میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے بالی ہے- میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض پھیلے گا یا یہ کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا` لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارہ میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے- ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا مابا نفسھم انہ اوی القریہ یعنی جب تک دلوں کی وباء معصیت دور نہ ہو گی تب ظاہری وباء بھی دور نہیں ہو گی۔اس اشتہار کے آخر میں چند فارسی اشعار بھی لکھے ہیں جو یہ ہیں ‏ آں چیزے کہ می بینم عزیزاں نیز دیرندے زدنیا توبہ کر دندے بچشم زار وخو نبارے خور تاباں سیہ گشت است از بدکاری مردم زمیں طاعوں ہمی آردپے تخویف وانزارے بہ تشویش قیامت ماندایں تشویوش گر بینی علاجے نیست بہردفع آں جز حسن کر دارے من از ہمدردی ات گفتم تو خرو ہم فکر کن بارے خرداز بہرایں روز است اے داناو ہشیارے ان پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ آپؑ نے ۱۸۹۴ء سے پہلے ایک خطرناک عذاب اور پھر کھلے لفظوں میں وباء کی پیشگوئی کی اور پھر جب کہ ہندوستان میں طاعون نمودار ہی ہوئی تھی کہ آپ نے خصوصیت کے ساتھ پنجاب کی تباہی کی خبر دی اور آنے والی طاعون کو قیامت کا