انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 541

۵۴۱ کا ہندوستان میں آنا مفادِ حکومت کے خلاف ہو گا کیونکہ جوں جوں ان کے آنے کی خبر پھیلتی جاتی تھی سکھوں میں پرانی روایات تازہ ہو کر جوش پیدا ہوتا جاتا تھا اور ڈر تھا کہ ان کے آنے پر کوئی فساد ہو جائے۔آخر عدن تک پہنچنے کے بعد وہ روک دیئے گئے اور یہ روک دیئے جانے کی خبر اس وقت معلوم ہو گی جبکہ لوگ یہ سمجھ چکے تھے کہ اب وہ چند ہی روز میں داخل ہندوستان ہوا چاہتے ہیں سکھوں کی امیدوں کو اس سے سخت صدمہ پہنچا لیکن اللہ عالم الغيب و والجلال کا جلال ظاہر ہوا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس وقت پڑھ لیتا ہے جب وہ خود اپنے خیالات سے واقف نہیں ہوتے۔ساتویں پیشگوئی طاعون کی پیشگوئی جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمام باریک در باریک اسباب کا مالک ہے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ملک کے متعلق حضرت اقدسؑؑ کی پیشگوئی بیان کرنے کے بعد میں نے چار پیشگوئیاں ایسی بیان کی ہیں جن سے تین قوموں پر حجت تمام کی گئی ہے اب میں ایک ایسی پیشگوئی بیان کرتا ہوں جس سے تمام اقوام ہند اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا پر حجت قائم کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰٰ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ وہ باریک اسباب پر قادر ہے اور ان کو اپنے مامور کی تائید میں لگاتا ہے- اس قسم کی پیشگوئیاں بھی حضرت اقدسؑ نے بہت سی کی ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہو چکی ہیں اور بعض آئندہ پوری ہوں گی` مگر ان میں سے مثال کے طور پر طاعون کی پیشگوئی کو لیتا ہوں جس میں یہ خصوصیت ہے کہ اس کی خبر رسول ﷺ نے بھی دی تھی اور فرمایا تھا کہ یہ بیماری مسیح موعود ؑکے وقت میں پھوٹے گی- جب رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند گرہن اور اٹھائیس تاریخ کو سورج گرہن ہوا تو اس وقت حضرت اقدسؑ علیہ السلام کو بتایا گیا کہ اگر