انوارالعلوم (جلد 7) — Page 357
۳۵۷ دعوة الا میر پیدا کیا ہے۔پس اسی طرح آنے والے مسیح کی نسبت بھی لفظ نزول اس کے مقام کے اجلال اور اس کے درجہ کی عظمت کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ فی الواقع آسمان سے اُترے گا۔چنانچہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور سب مُفسّر اس سے آپؐ کے شرف کا اظہار مراد لیتے ہیں اور وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ آپؐ مکہ مکرمہ میں قریش کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپؐ کے والد کا نام عبد اللہ تھا اور آپؐ کی والدہ کا نام آمنہ تھا۔وہ آیت جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کا ذکر ہے، یہ ہے۔قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا لا رَّسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیَاتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط (سورہ الطلاق آیت ۱۲-۱۱)یعنی اللہ تعالیٰٰ نے تم پر ذکر یعنی رسول نازل کیا جو تمہیں اللہ کی کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ مومنوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاوے۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور مسیح علیہ السلام کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس کے معنی اور کر دئیے جاتے ہیں اور مسیح کی نسبت اس کے اور معنی کر دئیے جاتے ہیں ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی زمین پر پیدا ہو ئے اور آپؐ کی نسبت نزول کا لفظ استعمال کیا گیا تو کون سے تعجب کی بات ہے اگر یہی لفظ آنے والے مسیح کی نسبت استعمال کیا جائے اور اس سے مراد اس کی پیدائش اور بعثت ہو۔تیسرا شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ حدیثوں میں آنے والے کا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا گیا ہے۔پس اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہی بعینہٖ دوبارہ تشریف لائیں گے۔لیکن یہ معترض خیال نہیں کرتے کہ کثرت سے ان کے شعروں میں عیسیٰ کا لفظ دوسرے لوگوں کی نسبت استعمال ہو تا ہے مگر اس کو یہ قابل اعتراض نہیں سمجھتے ، لیکن اللہ تعالیٰٰ کے کلام میں اگر ایک شخص کانام بھی عیسیٰ رکھ دیا گیا تو اس پر تعجب آتا ہے۔پھر روزانہ سخی لوگوں کی نسبت حاتم طائی اور فلسفیانہ دماغ رکھنے والوں کی نسبت محقق طوسی اور استخراج مسائل کا مادہ رکھنے والوں کی نسبت فخررازی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔مگر ابن مریم کے الفاظ ان کے دلوں میں شبہات پید اکردیتے ہیں۔اگر ابن مریم کے الفاظ تعیین کے معنی دیتے ہیں تو کیا طائی اور طوسی اور رازی تعیین کے معنی نہیں دیتے ، پھر اگر باجود ان الفاظ کے استعمال کے ان کی یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ شخص