انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 356

۳۵۶ دعوة الا میر وہ معنی نہیں ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں ، بلکہ جب ایک ایسی چیز کی پیدائش کا ذکر کرتے ہیں جو مفید ہو یا پھر ایک ایسے تغیر کا ذکر کرتے ہیں جو بابر کت ہو یا جلالِ الٰہی کا ظاہر کرنے والا ہو تو اسے عر بی زبان میں نزول کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ۔(توبہ آیت- ۲۶) اور پھرفرماتا ہے۔ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ م بَعْدِالْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا (اٰل عمران آیت- ۱۵۵) اور فرماتا ہے وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ (زمر آیت- ۷) اور فرماتا ہے۔قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَا سًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ ورِیْشًا ط وَلِبَا سُ التَّقْوٰی لا ذٰلِکَ خَیْرٌ ط ذٰلِکَ مِنْ اٰیَاتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (اعراف آیت-۲۷) اور فرماتا ہے۔وَاَنْزَلْنَا عَلَیکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ط( بقرۃ آیت-۵۸)اور فرماتا ہے وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ للِنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہُ وَرُسُلَہُ بِالْغَیْبِ ط اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ (حدید آیت-۲۶) اور فرماتا ہے وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِیْ الْاَرْضِ وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ ط اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ م بَصِیْرٌ (شوریٰ آیت-۲۸) اب یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ سکینت دل میں پیدا کی جاتی ہے۔نیند دماغ کے فعل کا نام ہے اور چار پائے اور لباس اور کھیتیاں اور بٹیر اورلوہا اور دنیا کی باقی سب چیزیں ایسی ہی ہیں جو اسی زمین پر پیدا ہو تی ہیں۔آسمان سے اتر تی ہوئی نہ کسی نے دیکھی ہیں اور نہ اُ ن کا آسمان سے اتر نا قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ صاف طور پر قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَجَعَلَ فِیْھَارَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَبَارَکَ فِیْھَاوَقَدَّ رَ فِیْھَا اَقْوَاتَھَا فِیْ اَرْبَعَۃِاَیَّا مٍ ط سَوَاءًٓ لّلِسَّا ئِلِیْنَ ( سورۃ حٰمٓ سجدہ آیت -۱۱)یعنی ہم نے زمین میں اس کی سطح پر پہاڑ پیدا کئے اور زمین میں بہت سے سامان پیدا کئے اور ہر قسم کی غذا ئیں بھی اس میں پیدا کیں۔یہ سب کام زمین کا پیدا ہونا پھر اس میں ہر قسم کے سامانوں اور جانوروں کا پیدا ہو نا چار زمانوں میں اختتام کو پہنچا اور یہ بات ہر قسم کے سائلوں کے لئے برابر ہے۔یعنی یہ مضمون گو بڑے بڑے مسائلِ طبعیہ اور دقائق علمیہ پر مشتمل ہے جو کچھ تو اس زمانے میں ظاہر ہو چکے ہیں اور کچھ آئندہ زمانوں میں ظاہر ہوں گے اور نئے نئے سوال اس کے متعلق پیدا ہوں گے۔مگر ہم نے اس کو ایسے الفاظ میں ادا کر دیا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ اور ہر زمانے کے آدمی اپنے اپنے علم اور اپنے اپنے زمانے کی علمی ترقی کے مطابق اس میں سے صحیح جواب پا لیں گے جو اُن کے لئے موجب تشفّی ہوگا۔غرض قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب اشیاء جن کا قرآن کریم میں اَنْزَلْنَا کے لفظ کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔آسمان پر سے نازل نہیں ہوئیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی زمین میں