انوارالعلوم (جلد 7) — Page 358
۳۵۸ فی الواقع طے کے قبیلے کا ایک فرد ہے یا طوس یا رےکا رہنے والا ہے تو ابن مریم کے الفاظ سے کیوں یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ ہو گا جو آج سے انیس سو سال پہلے گزر چکا ہے ، حالانکہ طےؔاور طوسیؔ اور رازیؔ ایسے اسماء نہیں ہیں کہ جو مجاز اً کسی اور معنی میں استعمال ہو ں، لیکن مریم ایک ایسانام ہے جسے ایک خاص حالت کے اظہار کے لئے قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے۔وَضَرَبَ اللّہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوا اِمْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِندَکَ بَیْتاً فِیْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ oلا وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہِ وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ (سورۃ تحریم آیت ۱۳-۱۲) یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کی مثال فرعون کی بیوی سے دیتا ہے جبکہ اس نے کہا کہ اے میرے رب میرے لیے جنت میں ایک گھر اپنے قرب میں بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کاموں سے بچا لے اور مجھے ظالم قوم کے پنجے سے چھُڑا لے اور یا مومنوں کی مثال مریم بنت عمران سے دیتا ہے جس نے اپنے سور اخوں کی حفاظت کی۔پھر ہم نے اس کے دل پر اپنا کلام نازل کیا اور اس نے ہماری باتوں اور ہماری کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبردار لوگوں میں سے ہوگئی ، پس جبکہ مومن کی ایک حالت کا نام اللہ تعالیٰ مریمی حالت رکھتا ہے اور ایسے مومن کو مریم کہتا ہے تو اگر کسی موعود کی نسبت اللہ تعالیٰ ابن مریم کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو کیا اس کے یہی معنی نہ ہوں گے کہ وہ اس مریمی حالت سے ترقی کرتے کرتے عیسوی حالت تک پہنچ جائے گا۔اس کی ابتدائی زندگی تو مریم کی طرح پاک اور بے عیب ہوگی اور اس کی آخری زندگی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح رُوح القدس سے مؤید ہوگی اور دنیا کی اصلاح اور صداقت کے قائم کرنے میں صرف ہو گی۔قرآن کریم کے معانی پر تدبر کرنا اور اس کے مطالب کے سمندر میں غوطہ لگا کر معارف کے موتی نکالنا تو اس زمانے کے علماء کے لئے تو حرام ہی ہوگیا ہے، اگر وہ انہیں علوم پر نظر کرتے جو علماء رُوحانی نے قرآن کریم پر غور کر کے اور انبیاء کی زندگی پر نظر کر کے اور ان کی باتوں کی طرف توجہ کرکے استنباط کئے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھد یئے ہیں تب بھی یہ لوگ ٹھوکر نہ کھاتے۔حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اپنی کتاب عوارف المعارف میں لکھتے ہیں کہ ایک ولادت ولادتِ جسمانی کے علاوہ ہوتی ہے جسے ولادتِ معنوی کہتے ہیں اور اس کی تائید میں اور