انوارالعلوم (جلد 7) — Page 124
۱۲۴ ہے یہ مذہب دہریت کی ایک شاخ ہے۔دیو سماج مذہب پانچواں جد ید مذہب دیو سماج ہے یہ بھی د ہریہ ہے اس کا بانی خدا کا تو انکار کراتا ہے مگراپنی پوجا کراتا ہے وہ کہتا ہے کہ ارواح ترقی کر کے اپنا اثر ڈالتی ہیں۔دراصل یہ مذہب جین مت سے نکلا ہے۔سپرچو لزم مذہب چھٹا جد ید سپرچو لزم ہے اس مذہب کے ماننے والے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد روحیں اس دنیا میں آتی ہیں اور اس جہان کی خبریں دیتی ہیں۔حالانکہ اصل تو یہی ہے کہ یہ معلوم کرنا ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا۔ان کے علاوہ ہزاروں قدیم و جد یدمذہب ہیں مگر ان کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔مذاہب کے اس مختصر تذکرہ کے بعد اب میں اسلام کو لیتا ہوں جس کو میں نے بیان تو سب سے پہلے کیا تھا مگر اسے چھوڑ دیا تھا اس لئے کہ وہ عظیم الشان ہے۔اسلامی علوم علوم اسلامی میں سے پہلی بات علم العقائد ہے اور علم العقائد میں سب سے اہم مسئلہ ہستی باری تعالیٰ ہے۔یہ معمولی علم نہیں بلکہ اس میں بڑی بڑی بحثیں ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰٰ نظر آسکتا ہے یا نہیں؟مل سکتا ہے یا نہیں ؟ یا ملنے کے کیا نشان ہیں ؟ بندوں سے کس طرح تعلق رکھتا ہے؟ ان سے اپنی محبت یا غضب کا کس طرح اظہار کر تاہے؟ہمارا اور خدا کا کیا تعلق ہے؟ غرض ہستی باری تعالیٰ کی کئی شاخیں ہیں۔میں نے پچھلے سال اس مسئلہ پر سالانہ جلسہ کے موقع پر تقریر کی تھی اور نو گھنٹے تک تقریر کی تھی۔عام طور پر لوگ ہستی باری تعالیٰ کو نہیں سمجھتے۔پھر اس کے ساتھ صفات باری تعالی ٰکا عقیده ہے اور اس کے متعلق بھی بہت سے پہلو ہیں۔صفات باری تعالی ٰکا آپس میں کیا تعلق ہے۔سب مسائل اسی میں آتے ہیں۔دوسرا مسئلہ ملائکہ کا ہے۔اس کی بھی بہت سی شاخیں ہیں۔ملائکہ ہیں یا نہیں؟ اور اگر ہیں تو کیا چیز ہیں؟ اور انسان سے ان کا کیا تعلق ہے؟ اگر کوئی تعلق ہے تو کیا ہے؟ اور انسان کا اس میں کہاں تک دخل ہے اور وہ کس طرح ملائکہ سے تعلق پیدا کر سکتا ہے؟ پھرملا ئکہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں یا نہیں؟ اس مسئلہ پر بھی میری مفصل تقریر شائع ہو چکی ہے جو سات آٹھ گھنٹے تک ہوئی تھی۔تیسرا مسئلہ وحی اور الہام کا ہے۔اس کے بھی مختلف پہلو ہیں۔خدا کا کلام کس طرح ازل