انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 123

۱۲۳ تک زندہ ہے وہ امام غائب ایک شخص کو اپنا قائمقام پاتا ہے وہ اس کا جانشین ہوتا ہے گویا وہ امام غائب اور دوسرے لوگوں کے درمیان ایک واسطہ اور باب ہوتا ہے۔باب دروازہ کو کہتے ہیں۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ باب معصوم ہوتا ہے اس سے غلطی اور خطا نہیں ہوتی کیونکہ وہ امام مہدی کا آئینہ ہوتا ہے اور یہ بھی ان کا عقیدہ ہے کہ مہدی کو علم غیب حاصل ہے۔محمدعلی باب ماراگیا۔کہتے ہیں کہ اس نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میرا جانشین ایک صبح ازل ہو۔دراصل یہ ایک لقب تھاجو محمد علی کے بعد اس کے جانشین مرزایحییٰ نے اپنا رکھ لیا۔یہ میرزا یحییٰ بہاء اللہ کا بھائی تھا۔یہ فرقہ چونکہ حکومت اِیران کے خلاف تھا اور باب بھی شاہی حکم سے مارا گیا تھا۔صبح ازل نے جب دیکھا کہ اس کے سرگرم اور جوشیلے مرید قتل ہو رہے ہیں تو بہت گھبرایا اور بغداد کو بھاگ آیا جہاں اس نے آکر خوف سے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔اس موقع کو اس کے بھائی بہاء اللہ نے جس کا اصل نام میرزا حسین علی تھاغنیمت سمجھا اور بہاء اللہ کا لقب اختیار کر کے اپنا کام کرنے لگا اب صبح ازل تو بیٹھا رہ گیا اور بہائی فرقہ بڑھ گیا۔یہ فرقہ ایک ایسا فرقہ ہے کہ جس کا مذہب اور عقیدہ عملی طور پر یہ پایا جاتا ہے کہ جو یورپ والے کہیں وہی تعلیم اپنی بتادیتے ہیں۔خواجہ صاحب کا ساطریق ہے کہ جو تعلیم یافتہ لوگوں نے کہہ دیاوہی اسلام ہے۔بہائیوں کا عملی طریق یہی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگوں کے خیالات کو لیکر اور کچھ اخلاقی تعلیم پیش کر دیتے ہیں۔برہمومذہب (۱۱) گیارہواں مذہب یا دوسرا جدید مذہب برہمو مذہب ہے۔یہ عقلی مذہب ہے اور کہتے ہیں ہمارے عقیدہ کی بنیاد عقل پر ہے۔یہ لوگ دعا بھی کرتے ہیں مگر دعا کی قبولیت کے قائل نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دعاسے صرف خدا کی محبت بڑھتی ہے۔تھیا سوفی مذہب تیسرا جدید مذہب تھیا سوفی ہے۔اس مذہب کو بڑهانیوالی ایک عورت ہے اور آج کل اس کی سردار بھی ایک عورت ہے جس کا نام اینی بسنٹ ہے۔اس کا عقیدہ ہے کہ انسانی رو حیں واپس آتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ صداقت بیشک ہے مگروه نہ توکسی خاص عقید ہ سے مخصوص ہے نہ کسی عام انسان سے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان خدا کو دیکھ لیتا ہے مگر کسی مذہب کی پیروی سے نہیں بلکہ انسانی تدبیراور فکر کے ساتھ۔یونی ٹیرین مذہب چوتھا جدید مذہب یونی ٹیرین یعنی نفع کا مذہب ہے۔یہ کہتے ہیں کہ مذاہب جھوٹے ہیں۔جس چیزمیں سب سے زیادہ نفع ہو وہی اچھی