انوارالعلوم (جلد 7) — Page 126
۱۲۶ علوم اسلامی میں دوسرا علم قرآن کریم ہے کیونکہ یہ وحی الہیٰ ہے۔قرآن کریم بجائے خود بہت سے علوم کا مجموعہ ہے اور اس کے کئی حصے ہیں۔اول متن پڑھنا اور اس کو سمجھناہے دوم علم تفسیر۔اس سے یہ مطلب ہے کہ پہلے لوگوں نے کیا معنے کئے ہیں۔تفسیروں کے علم میں بیسیوں تفسیریں ہیں اور ایک ایک تفسیر بہت جلدوں میں لکھی گئی ہے یہاں تک کہ ایک تفسیر دو سو جلدوں میں ہے۔غرض سینکڑوں جلدیں مختلف تفسیروں کی ہیں اور بہت سی ان میں سے چھپ چکی ہیں اور بہت ہیں جو ابھی نہیں چھپی ہیں۔پھر علوم قرآنیہ میں تیسرا علم اصول تفسیر کا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف کے معنے اور تفسیر کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے یہ ایک مستقل علم ہے۔۴ - پھرایک قرآن کریم کے متعلق علم قراءت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺنے بعض الفاظ کو کسی جگہ سات سات طرز پر پڑھا ہے اور بعض دس دس طرز پر بھی پڑھا ہے یہ علم قرات سے معلوم ہوا ہے اور جو لوگ اس کے عالم میں وہ جانتے ہیں یہ علم صرف قبائل کے لحاظ سے ہے۔عربوں کے مختلف قبیلے اپنے لب ولہجہ کے لحاظ سے جس طرح پرادا کرسکتے تھے ان کی آسانی کے لئے نبی کریم ﷺاجازت دیتے تھے۔پانچواں علم۔علم تجوید - اس علم میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ کو ادا کرتے وقت ٹهہرناکہاں ہے اور کہاں لمبا کرنا ہے اس میں اعراب اور مدّکے قواعد ہوتے ہیں۔چھٹا علم۔جمع القرآن ہے۔اس علم میں اس امر پر بحث ہوتی ہے کہ قرآن مجید آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں لکھا گیا یا نہیں اور لکھا گیا تو سارا لکھا گیا؟ اہل یورپ نے جمع قرآن پر اعتراضات کئے ہیں اس علم کے ذریعہ ان اعتراضات کا جواب دیا جا تا ہے۔ساتواں علم۔تاریخ نزول و ترتیب قرآن کریم ہے۔قرآن مجید کی آیات اس وقت تو ملی جلی ہیں۔اس علم کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آیت کس وقت اتری۔یہ ایک مستقل علم ہے۔آٹھواں علم، حل لغت قرآن بالقرآن ہے۔قرآن کریم اپنے الفاظ کے معنی خود کرتا ہے۔یہ علم بھی ایک مستقل علم ہے۔غرض قرآن کریم کے متعلق یہ آٹھ علم ہیں۔تیسرا علم علوم اسلامیہ میں سے علم الحدیث ہے اس کی بھی کئی شاخیں ہیں۔(1) خود حدیث ہے نبی کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حدیث ہے اس کا ایک حصہ وہ