انوارالعلوم (جلد 7) — Page 127
۱۲۷ ہے جس کو روایت کہتے ہیں۔جیسے ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے ایساسنایا حضرت ابو بکر ؓکا کہنا کہ میں نے رسول الله ﷺ سے سنا۔یا کسی اور صحابی کاایساکہناروایت ہے اور اس روایت کو حدیث کہتے ہیں۔(۲) دوسرا حصہ اصول حدیث ہے جس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حدیث کس طرح پر لکھی گئی۔اس کے اصول بیان کئے ہیں۔اس علم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کتنی قسم کی حدیثیں ہوتی ہیں۔بعض صحیح ہوتی ہیں بعض کمزور ہوتی ہیں۔پران اقسام حدیث کے در جے بتائے جاتے ہیں۔یعنی کہاں تک کوئی حدیث اثر رکھتی ہے۔اس علم کی ایک شاخ اور نکل آئی ہے وہ اسماءالرجال ہے اس علم میں یہ بحث ہے کہ فلاں راوی صادق ہے یا کیساہے، اس کا حافظ کیساہے، وہ ملا بھی ہے یانہیں غرض راویوں کے حالات پربہت کھول کھول کر بحث کی جاتی ہے اور ان ساری باتوں کا اثر حدیث پر جاپڑتا ہے۔چوتھا حصہ حدیث کے متعلق تاریخ حدیث ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حدیث کے لکھنے کا خیال کیونکر پیدا ہوا اور کس زمانہ میں حدیث کی تحریر شروع ہوئی مؤلفین نے حدیث کا ذکر بھی کیا ہے اور یہ بھی کہ اس میں کیا کیا ترقیاں ہوئیں۔پانچواں حصہ علم حدیث کے متعلق شرح حدیث ہے۔جس طرح قرآن کریم کی تفسیرکی گئی ہے اسی طرح پر حدیث کی شرح لکھی گئی ہے۔چھٹا حصہ موضوعاتِ حدیث کا ہے۔اگرچہ یہ بجث اسماء الرجال میں بھی آجاتی ہے مگر بعض نے مستقل طور پر اس علم کو لیا ہے اور موضوع احادیث کو جمع کیا ہے۔چوتھا علم۔علوم اسلامی میں فقہ کا علم ہے اس کے بھی کئی حصہ ہیں ایک تو خودفقہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وضواس طرح کرنا چاہئے نماز اس طرح پڑھنی چاہئے۔اس طرح زکوٰۃ، روزه نکاح ،حج اور دوسرے مسائل لین دین، ورثہ وغیرہ کے متعلق حدیث میں بھی مسائل آتے ہیں مگر متفرق طور پر فقہ میں تمام مسائل کو ایک جگہ جمع کر کے بتادیا ہے۔فقہ کے علم کے ماتحت بھی کئی علم ہیں۔ان میں سے ایک اصول فقہ ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ فقہ کیوں کر بنائی جاتی ہے۔لین کن کن طریقوں پر اس کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔پھر آگے اس میں اختلاف ہو گا۔کوئی کہے گا یہ بات قرآن کریم کے مطابق ہو۔ایانی کوئی کہے گا کہ قیاس اور عقل کو بھی دخل ہو گا۔