انوارالعلوم (جلد 7) — Page 36
۳۶ ۶۔کام کاج اسی طرح کام کاج بھی ایسی بات ہے۔یہ بھی ایک قسم احسان کی ہے اور سخاوت سےعلیحدہ ہے۔اس سے غریبوں سے مؤانست اور محبت پیدا ہو جاتی ہے۔اور ان سے تعلق ہوتا ہے۔ایسے کاموں کو انعام سمجھنا چاہیے جیسے جلسہ کے کام کاج ہیں۔میں نے اپنے بچے ناصراحمد کو جلسہ کے چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے بھیجاتھاگرچہ افسروں نے اسے دفتر میں لگالیا۔میرے خیال میں اسے مہمانوں کو روٹی کھلانے پر لگانا چاہیے تھایا اس سے بھی کوئی ادنٰی کام ہو تو اس پر لگاناتھاپھر وہ ترقی کرتا کر تا آگے بڑھے۔بہت لوگ ایسے کاموں سے بچتے ہیں مگر ایسا نہیں کرناچاہیے۔ایسے کاموں سے اخلاق پر بہت عمدہ اثر ہوتا ہے اور بہت سی نفس کی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔کئی امیر ایسے ہوتے ہیں جو روپیہ تو دے دیتے ہیں لیکن کام کاج کرنے کے لئے اگر کہا جائے تو نہیں کر سکتے۔آنحضرتﷺ خود دو سروں کے کام کردیا کرتے۔صحابہؓ کی زندگیوں میں بھی اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔پس یہ عادت بھی ڈالو کہ دوسروں کے چھوٹے موٹے کام کردیا کرو۔یہ باہم محبت بڑھانے کا بہت عمدہ ذریعہ ہے۔۷۔مظلوم کی امداد پھر ایک نیکی مظلوم کی امدادہے۔رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے۔کہ بعض ملک اس لئے تباہ ہو گئے کہ ان میں معلوم کی امدادنہ کی جاتی تھی"-- اور آپؐ نے عیسائیوں کی یہ خوبی بیان فرمائی ہے کہ اگر بادشاہ ظلم کرنے لگے تو اسے روک دیتے ہیں۔۔۸۔تہمت كاذبّ ایک نیکی یہ بھی ہے کہ تہمت كاذبّ کیا جائے۔یعنی اگر کوئی کسی پر تہمت لگائے تو اس کو ردّ کر دینا چاہئے۔یہ بھی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے۔اور تہمت کی تائید کرنا پڑا گناہ ہے۔سورۃ نور میں مومن کا خاصہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تہمت کا ذبّ کرتا ہے اور کہتا ہے سبحنک ھذا بهتان عظیم ه پس مومن کو حسن ظنی کر نی چاہیے نہ کہ بد ظنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ حسن ظنی کی کہ جو بات کسی نے سنائی اسے مان لیا اور بیان کرنے والے کو جھوٹا نہ سمجھا مگر ہم کہتے ہیں اس طرح تم نےبدظنی ہی کی۔جو شخص موجود نہ تھا اس کے خلاف بات سن کر یقین کرلینا بدظنی ہے۔دیکھو زید نے ایک شخص کی شکایت تمہارے پاس آکر کی اور وہ تمہارے پاس موجود نہیں اب اگر تم زید کی بات سن کر اس پر یقین کر لیتے ہو اور جس کے متعلق وہ بات ہے اس کا بیان نہیں سنتے تو یہ بد ظنی ہے اور کسی کا عیب بیان کرنا شریعت کا جرم ہے اس لئے ایسی بات کو مان لینا حسن ظنی نہیں۔ایسے موقع پر یہی ضروری ہے کہ