انوارالعلوم (جلد 7) — Page 37
۳۷ جس کا جرم تمہارے نزدیک ثابت نہیں اس کو بری سمجھو اور جو کسی کاعیب بیان کرتا ہے اس کا جرم تمہارے نزدیک ثابت ہے۔پس تہمتوں کو دور کر بھی نیکی ہے۔تم ہمیشہ تہمت کاذب ّکرواس سے حسن ظنی پیدا ہوتی ہے۔۹۔خوش چہرہ سے ملنا لوگوں سے خوش چہرہ سے ملنا بھی نیکی ہے اور اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔قرآن کریم نے بھی اس کو خاص طور پر بیان کیا ہے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھ سے مصافہ کرنے والا میرا ہاتھ مروڑ دیتا ہے مگر میں اس وقت بھی مسکراتا ہوں تا کہ اس کو رنج نہ پہنچے۔پس یہ ایک ایسی نیکی ہے جس سے دوسری بہت سی نیکیاں پیدا ہوتی ہیں اور بہت سی بدیاں دور ہو جاتی ہیں۔۱۰۔محبت سے کلام پھرمحبت سے کلام کرنا بھی نیکی ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی کاکام کر دیں گے مگر محبت سے بات نہیں کر سکیں گے ایسے لوگوں کے لئے محبت سے بات کرنا بھی نیکی ہے۔بر مکی وزیر کے متعلق ایک شخص لکھتا ہے کہ میرے باپ اور اس کے باپ کی باہمی دشمنی تھی مجھے ایک حاجت پیش آئی چونکہ اس کی داد و دہش عام تھی اس لئے میں بھی اس کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی۔وہ نہایت تُرش رُو ہو کر اٹھ گیا اور اس نے میری بات بھی نہ پو چھی لیکن میں جب واپس آگیا تو میں نے دیکھا کہ خچریں روپوں سے لدی ہوئی اس نے میرے ہاں بھیج دیں۔ان پر اتنا روپیہ تھا کہ قرضہ اتار کر بھی میرے پاس بچ رہا۔دیکھو اس نے روپیہ تو بھیج دیئے اور یہ بڑی نیکی کی مگر اس سے محبت کے ساتھ بات نہ کر سکا اور اسلامی نقطہ خیال سے اس نے یہ گناہ کیا۔۱۱۔دوسروں کے حقوق اور مال کی حفاظت ٍلوگوں کے خون اور مال کی حفاظتکرنا بھی نیکی ہے۔عام لوگ اس میں بھی کوتاہی کرتے ہیں اور اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔مثلا ًکسی کا کھیت جانور چر رہے ہوں اگر کھیت والا وہاں نہیں تو اس کی حفاظت کرنانیکی ہے اور مومن کا فرض ہے کہ اس وقت خود اس کھیت کا مالک بن جائے اور اس کی حفاظت کرے کیونکہ دراصل تو خدا ہی کاہے۔۱۲۔یتامیٰ اور بیواؤں سے سلوک یہ بھی کی ہے۔یتامیٰ سے وہ مراد ہیں جن کے وارث اٹھ گئے ہوں۔بندے تو سارے خداہی