انوارالعلوم (جلد 7) — Page 35
۳۵ بندھ جاتی ہیں اور انسان کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔اگر کسی کو ایک ہزار روپیہ دے دوتو اس سے اتنافائدہ نہیں ہوتا جتنا مصیبت کے وقت ہمدردی کے اظہار سے ہوتاہے۔۲۔سخاوت یہ ان اعلی ٰدرجہ کی نیکیوں میں سے ہے جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں۔۳۔تعلیم دینا تعلیم بھی ایسی ہی نیکی ہے۔اس سے یہ مراد ہے کہ لوگوں کو علم پڑھایا جائے۔لوگوں میں یہ بہت بڑا عیب ہو گیا ہے کہ بغیر کچھ لئے کسی کو نہیں پڑھاتے اور جب میں سنتا ہوں کہ کوئی بغیر کچھ لئے کسی کو پڑھانا نہیں چاہتا تو مجھے بہت صدمہ ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول بھی ڈیوٹی مانگنے پر ناراض ہوا کرتے تھے۔ہر ایک مومن کو چاہئے کہ کچھ نہ کچھ مفت ضرور پڑھایا کرے۔اگر کوئی مدرس ہے تو اسے نوکری کے علاوہ مفت بھی پڑھانا چاہئے۔۴۔تربیت تربیت بھی ان احسانوں میں سے ایک احسان ہے جو انسان دوسروں پر کر سکتا ہے اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔۵۔علاج معالجہ یہ بڑا فائدہ پہنچانے کی چیز ہے۔حضرت مسیح موعودؑ اس کو بڑی قدر کی نظر سے دیکھتے تھے۔ایک دفعہ گھرمیں حضرت مولوی صاحب کا ذکر آیاتو آپؑ ان کا نام لیکر دیر تک الحمد للہ کرتے رہے۔اور فرمایا مولوی صاحب بھی اللہ تعالیٰ ٰکی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں ان کے ذریعے کئی غریبوں کا علاج ہو جاتا ہے۔علاج تودو سروں کا ہوتا تھا مگر شکر آپؑ کر رہے تھے۔یورپ کے لوگ جو متمدن لوگ ہیں انہوں نے اس قسم کی کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جن کے ممبر فرسٹ ایڈ سیکھتے ہیں یعنی ابتدائی طریق علاج - اگر کسی کو کوئی تکلیف پہنچے یا کوئی حادثہ ہو جائے تو قبل اس کے کہ ڈاکٹر آۓ وہ فوری طور پر کچھ نہ کچھ علاج معالجہ کرتے ہیں۔مگر مجھے افسوس آتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ اس طرح نہیں کرتے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو سب کاموں میں حصہ لینا چاہئے۔مثلا ًکسی کو چوٹ لگے تو اس کی مدد کرنا، ڈوبتے کو بچانا، مصیبت کے وقت امداد دینا ہر جگہ اس قسم کا انتظام ہونا چاہئے۔یورپ کے لوگ تو اس قسم کی باتیں محض اپنے نفس کے ماتحت کرتے ہیں پھر کس قدر افسوس ہے اگر مسلمان خدا تعالی ٰسے سن کر بھی یہ کام نہ کریں۔مصیبت میں دوسروں کے کام آنا مومن کی شان ہے اور تم کو شش کرو کہ یہ روح تم میں پیدا ہو جائے۔