انوارالعلوم (جلد 7) — Page 531
انوار العلوم جلدے ۵۳۱ دعوة الامير رہنے والا تھا وہاں سے امریکہ چلا گیا ۔ ۱۸۹۲ء میں اس نے مذہبی وعظ کہنے شروع کئے اور جلد ہی اس دعوے کی وجہ سے کہ اسے بلا علاج کے شفاء بخشنے کی طاقت ہے اس نے مقبولیت عامہ حاصل کرنی شروع کر دی - ۱۹۰۱ء میں اس نے یہ دعوی کیا کہ وہ مسیح کی آمد ثانی کے لئے بطور ایلیاہ کے ہے اور اس کا راستہ صاف کرنے آیا ہے چونکہ علامات ظهور مسیح کے پورا ہونے کی وجہ سے مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مسیح کی آمد کا انتظار لگ رہا تھا اس دعوے سے اس کو بہت ترقی ہوئی۔ اس نے ایک زمین خرید کر اس پر صبحون نامی ایک شہر بسایا اور اعلان کیا کہ مسیح اسی شہر میں اتریں گے ۔ بڑے بڑے مالدار لوگوں نے سب سے پہلے مسیح کو دیکھنے کی غرض سے لاکھوں روپیہ کے خرچ سے زمین خرید کر وہاں مکان بنوائے اور یہ اس شہر میں ایک بادشاہ کی طرح رہنے لگا۔ اس کے مرید تھوڑے ہی عرصے میں ایک لاکھ سے زیادہ بڑھ گئے اور تمام بلاد مسیحبہ میں اس کے مناد تبلیغ کیلئے مقرر کئے گئے ۔ اس شخص کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور ہمیشہ اسلام کے خلاف سخت کلامی کرتا رہتا تھا۔ ۱۹۰۲ء میں اس نے شائع کیا کہ اگر مسلمان مسیحیت کو قبول نہ کریں گے تو وہ سب کے سب ہلاک کر دیئے جائیں گے۔ اس پیشگوئی کی خبر حضرت اقدس مسیح موعود کو ملی تو آپ نے فوراً اس کے خلاف ایک اشتہار شائع کیا جس میں اسلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ مسیحیت کی صداقت ظاہر کرنے کیلئے کروڑوں آدمیوں کو ہلاک کرنے کی کیا ضرورت ہے میں خدا کی طرف سے مسیح کر کے بھیجا گیا ہوں مجھ سے مباہلہ کر کے دیکھ لو اس سے بچے اور جھوٹے مذہب کا فیصلہ ہو جائے گا اور لوگوں کو فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ۲۲۶۔ یہ اشتہار آپ کا ستمبر ۱۹۰۲ء میں شائع کیا گیا اور اس کثرت سے یورپ اور امریکہ میں شائع کیا گیا کہ دسمبر ۱۹۰۲ء سے لیکر ۱۹۰۳ء کے اختتام تک اس اشتہار پر مختلف اخبارات امریکہ و یورپ میں ریویو چھپتے رہے جن میں سے تقریباً چالیس اخبارات نے تو اپنے پرچے یہاں بھی بھیجے ۔ اس قدر اخبارات میں اشتہار کی اشاعت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کم سے کم ہیں پچیس لاکھ آدمیوں کو اس دعوت مباہلہ کا علم ہو گیا ہو گا۔ اس اشتہار کا ڈوئی نے جواب تو کوئی نہ دیا اسلام کے خلاف بد دعائیں کرنا شروع کر دیں اور اس پر سخت حملے شروع کر دیئے ۔ ۱۴ فروری مدد کو اس نے شائع کیا کہ ” میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جاوے اے خدا تو ایسا ہی کر اے خدا ! ڈولی کے اخبار میں جو صبحون سے شائع ہوتا تھا