انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 532

و ۵۳۲ اسلام کو ہلاک کر‘‘پھر ۵ اگست ۱۹۰۳ء میں شائع کیا کہ’’ انسانیت پر اس سخت بدنما دھبے(اسلام) کو صبحون ہلاک کر کے چھوڑے گا‘‘جب حضرت اقدسؑ نے دیکھا کہ یہ شخص اپنی مخالفت سے باز نہیں آتا تو آپ نے۱۹۰۳ء لکھا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰٰ نے اس وقت اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کی توحید کو قائم کروں اور شرک کو مٹا دوں اور پھر لکھا کہ امریکہ کے لیے خدا نے مجھے یہ نشان دیا ہے کہ اگر ڈوئی میرے ساتھ مباہلہ کرے اور میرے مقابلہ پر خواہ صراحتاً یا اشارتاً آجائے تو وہ ’’میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دیگا‘‘ اس کے بعد لکھا کہ ڈوئی کو میں نے پہلے بھی دعوت مباہلہ دی تھی مگر س نے اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا` اس لیے آج سے اس کو سات ماہ کی جواب یک لیے مہلت دی جاتی ہے پھر لکھا کہ’’پس یقین رکھو کہ اس کے صبحون پر جلد ایک آفت آنیوالی ہے آخر میں بلا اس کے جواب کا انتظار کئے دعا کی کہ اے خدا ’’یہ فیصلہ جلد تر کر کہ پگٹ اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے‘‘یہ اشتہار بھی کثرت سے بلاد مغربیہ میں تقسم کیا گیا اور یورپ اور امریکہ کے متعدد اخبارات مثلاً گلاسکو`،ہیرلڈ انگلستان` نیویارک کمرشل ایڈورٹائزر امریکہ وغیرہا نے اس کے خلاصے اپنے اخبارات میں شائع کئے اور لاکھوں آدمی اس کے مضمون پر مطلع ہو گئے- جس وقت یہ اشتہار شائع ہوا ہے اس وقت ڈوئی کا ستارہ بڑے عروج پر تھا اس کے مریدوں کی تعداد بہت بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس قدر مالدار تھے کہ ہر سال کے شروع میں تیس لاکھ روپیہ کے تحائف اس کو پیش کرتے تھے اور کئی کارخانے اس کے جاری تھے چھ کروڑ کے قریب اس کے پاس روپیہ تھا اور بڑے بڑے نوابوں سے زیادہ اس کا عملہ تھا اس کی صحت ایسی اچھی تھی کہ وہ اس کو اپنا معجزہ قرار دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں دوسروں کو بھی اپنے حکم سے اچھا کر سکتا ہوں` غرض مال ،صحت جماعت` اقتدار ان چاروں باتوں سے اس کو حصہ وافر ملا تھا- اس اشتہار کے شائع ہونے پر لوگوں نے اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں آپ کے اشتہارات کا جواب نہیں دیتا تو اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’تم فلاں فلاں بات کا جواب کیوں نہیں دیتے- جواب! کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان کیڑوں مکوڑوں کا جواب دوں گا` اگر میں اپنا پائوں ان پر رکھوں تو ایک دم میں ان کو کچل سکتا ہوں مگر میں ان کو موقعہ دیتا ہوں کہ میرے سامنے سے دور چلے جائیں اور کچھ دن اور زندہ رہ لیں۔‘‘ انسان بعض دفعہ کیسی نادانی کر لیتا ہے- ڈوئی نے