انوارالعلوم (جلد 7) — Page 434
انوار العلوم جلدے ۴۳۴ دعوة الامير اس وقت تک آپ نے مسیحیت کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور نہ لوگوں میں آپ کی مخالفت ور نہ لوگوں میں آپ کی مخالفت کا جوش پیدا ہوا تھا اور وہ تعصب سے خالی تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں مسلمانوں نے علی الاعلان کہنا شروع کر دیا کہ یہی شخص اس زمانے کا مجد د ہے بلکہ لدھیانے کے ایک بزرگ نے جو اپنے زمانے کے اولیاء میں سے شمار ہوتے تھے یہاں تک لکھ دیا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کیلئے را اس کتاب کے بعد آپ نے اسلام کی حفاظت اور اس کی تائید میں اس قدر کوشش کی کہ آخر دشمنان اسلام کو تسلیم کرنا پڑا کہ اسلام مردہ نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے اور ان کو فکر پڑ گئی کہ ہمارے مذہب اسلام کے مقابلہ میں کیونکر ٹھہریں گے۔ اور اس وقت اس مذہب کی جو سب سے زیادہ اپنی کامیابی پر اترا رہا تھا اور اسلام کو اپنا شکار سمجھ رہا تھا یہ حالت ہے کہ اس کے مبلغ حضرت اقدس کے خدام سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں اور کسی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ احمدی کے مقابلے پر کھڑا ہو جائے ۔ آج آپ کے ذریعے سے اسلام سب مذاہب پر غالب ہو چکا ہے کیونکہ دلائل کی تلوار ایسی کاری تلوار ہے کہ گو اس کی ضرب دیر بعد اپنا اثر دکھاتی ہے مگر اسکا اثر نہ مٹنے والا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیحیت کو ابھی اسی طرح دنیا کو گھیرے ہوئے ہے جس طرح پہلے تھی اور دیگر ادیان بھی اسی طرح قائم ہیں جس طرح پہلے تھے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی موت کی گھنٹی بج چکی ہے اور ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔ رسم و رواج کے اثر کے سبب سے ابھی لوگ اسلام میں اس کثرت سے داخل نہیں ہوتے جس کثرت سے داخل ہونے پر ان کی موت ظاہر بینوں کو نظر آسکتی ہے مگر آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ عظمند آدمی پیج سے اندازہ لگاتا ہے۔ حضرت اقدس نے ان پر ایسا وار کیا کہ اس کی زد سے وہ جانبر نہیں ہو سکتے اور جلد یا بدیر ایک مردہ ڈھیر کی طرح اسلام کے قدموں پر گریں گے وہ وار جو آپ نے غیر مذاہب پر کئے اور جن کا نتیجہ ان کی یقینی موت ہے یہ ہیں۔ مسیحی مذہب پر تو آپ کا یہ وار ہے کہ اس کی تمام کامیابی اس یقین پر تھی سیحی مذہب پر وار که حضرت مسیح صلیب پر مرکر لوگوں کیلئے کفارہ ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ پر جا بیٹھے ایک طرف ان کی موت جسے لوگوں کیلئے ظاہر کیا جاتا تھا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت کی لہر چلا دیتی تھی اور دوسری طرف ان کی زندگی اور آسمان پر