انوارالعلوم (جلد 7) — Page 435
۴۳۵ دعوۃالامیر خدا تعالیٰ کے داہنے ہاتھ پر جا بیٹھنا۔ان کی عظمت اور خدا ئی کا اقرار کر والیتا تھا۔آپ نے ان دوںو باتوں کو انجیل ہی سے غلط ثابت کر کے دکھایا اور تاریخ سے ثابت کر دیا کہ مسیح کا صلیب پر مرنا ناممکن تھا کیونکہ صلیب پر لوگ تین تین دن تک زندہ رہتے تھے اور مسیح کو صرف بقول اناجیل تین چار گھنٹے صلیب پر رکھا گیا ، بلکہ انجیل میں ہے کہ جب ان کو صلیب سے اتارا گیا توا ن کے جسم میں نیزہ چبھونے سے جسم سے زندہ خون نکلا (یوحنا۱۹:۳۱تا ۳۴)اور مردے کے جسم سے زندہ خون نہیں نکلا کرتا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح نے پیشگوئی کی تھی جواب تک اناجیل میں موجود ہے کہ آپ زندہ صلیب سے اتر آئیں گے۔آپ نے فرمایا تھا ، اس زمانے کے لوگوں کو یونس نبی کا سا معجزہ دکھایا جائے گا۔جس طرح وہ تین دن رات مجھلی کے پیٹ میں رہا اسی طرح ابن آدم تین دن رات قبر میں رہے گا۔(متی ۱۲: ۳۹و ۴۰) اور یہ ابت متفقہ طور پر رتسلیم کی جاتی ہے کہ یونس نبی زندہ ہی مجھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی اس سے باہر آیا۔پس اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی زندہ ہی قبر میں اتارے گئے اور زندہ ہی اس میں سے نکالے گئے۔چونکہ تمام دلائل کی بنیاد اناجیل پر ہی تھی اس حربہ کا جواب مسیح کچھ نہ دے سکتے تھے اور نہ اب دے سکتے ہیں۔پس کفارہ اور مسیح کے دوسروں کی خاطر صلیب پر مارے جانے کا عقیدہ جو مسیحیت کی طرف لوگوں کو کھینچ کر لارہے تھے بالکل باطل ہو گئے اور اس کی ایک ٹانگ ٹو ٹ گئی۔دوسری ٹانگ مسیحیت کے بُت کی حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے اور خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھ جانے کی تھی۔یہ ٹانگ بھی آپ نے انجیلی دلائل سے ہی توڑ دی۔کیونکہ آپ نے انجیل سے ہی ثابت کر دکھایا کہ مسیح علیہ السلام صلیب کے واقعہ کے بعد آسمان پر نہیں گئے بلکہ ایران ،افغانستان اور ہندوستان کی طرف چلے گئے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کہ کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھڑوں کو اکٹھا کر نے آیا ہوں (میری اور بھی بھڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانے کی نہیں مجھے ان کا بھی لانا ضروری ہے) (یوحنا ۱۰:۱۶) اور تواریخ سے ثابتہے کہ بابل کے بادشاہ بخت الںصر نے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے دس۱۰ کو قید کر کے افغانستان کی طرف جلا وطن کر دیاتھا۔پس حضرت مسیحؑ کے اس قول کے مطابق ان کا افغانستان اور کشمیر کی طرف آناضروری تھا، تاکہ وہ ان گمشدہ بھڑوں کو خدا کا کلام پہنچا دیں۔اگر وہ ادھر نہ آتے تو اپنے اقرار کے مطابق ان کی بعثت لغو اور عبث ہوجاتی۔آپ نے انجیلی شہادت کے علاوہ تاریخی اور جغرافیائی شہادت سے بھی اس دعویٰ کو پایۂ