انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 433

نوارالعلوم جلد ۷ ۴۳۳ دعوۃالامیر کے بالکل مٹ جانے کا خطرہ تھا، مسلمان مسیحیوں کے مقابلے میں اسقدر زک پر زِک اٹھا رہے تھے کہ نو مسلم اقوام تو الگ رہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد یعنی سادات میں سے ہزاروں اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہوگئے تھے بلکہ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف سخت گندا لٹریچر شائع کر رہے تھے اور منبروں پر چڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر ایسے دلآزاراتہام لگا ئے جاتے تھے کہ ایک مسلمان کا کلیجہ ان کو سن کر چھلنی ہوجاتاتھا، مسلمانوں کی کمزوری اسقدر بڑھ گئی تھی کہ وہ مردہ قوم ہنود کی جس کو تبلیغ کے میدان میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور جو ہمیشہ اپنے گھر کی حفاظت ہی کی کوشش اور وہ بھی ناکام کوشش کرتی رہی ہے اسے بھی جرأت پیدا ہوگئی اور اس میں بھی ایک فرقہ آریوں کا کھڑا ہو گیا جس نے اپنی مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا قرار دیا اور اس کے لئے عملی طور پر جد و جہد بھی شروع کر دی۔یہ نظارہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے ایک بے خطا نشانچی کی نعش پر گدھ جمع ہو جاتے ہیں ،یا وہ اس کے زور بازو سے ڈرکر اس کے قریب بھی نہ پھٹکا کرتے تھے۔یا اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھانے لگتے ہیں اور اسی کی ہڈیوں پر بیٹھ کر اس کا گوشت کھاتے ہیں، بعض مسلمان مصنف تک جو اسلام کی تائید کے لئے کھڑے ہوتے تھے ، بجائے اس کی تعلیم کی خوبی ثابت کرنے کے اس امر کا اقرار کرنے لگ گئے تھے کہ اسلام کے احکام زمانہ ٔ جاہلیت کے مناسب حال تھے اس لئے موجودہ زمانے کی روشنی کے مطابق ان پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔اس اندرونی مایوسی اور بیرونی حملے کے وقت حضرت اقدسؑ مرزا غلا م احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسلام کی حفاظت کا کام شروع کیا اور سب سے پہلا حملہ ہی ایسا زبر دست کیا کہ دشمنوں کے ہوش و حواس گم ہو گئے۔آپ نے ایک کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھی جس میں اسلام کی صداقت کے دلائل کو بوضاحت بیان فرمایا اور دشمنان اسلام کو چیلنج دیا کہ اگر وہ اپنے مذاہب سے پانچواں حصہ دلائل بھی نکال دینگے تو آپ ان کو دس ہزار روپیہ دیں گے۔باوجود ناخنوں تک زور لگا نے کے کوئی دشمن اس کتاب کا جواب نہ دے سکا اور ہندوستان کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک شور پڑ گیا کہ یہ کتاب اپنی آپ ہی نظیر ہے دشمن حیران رہ گئے کہ یا تو اسلام دفاع کی بھی طاقت نہ رکھتا تھا یا اس مرد میدان کے بیچ میں آکود نے کے سبب سے اس کی تلوار ادیان باطلہ کے سر پر اس زور سے پڑنے لگی ہے کہ ان کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے ہیں۔