انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 357

انوار العلوم جلدے ۳۵۷ دعوت الامير پیدا کیا ہے ۔ پس اسی طرح آنے والے مسیح کی نسبت بھی لفظ نزول اس کے مقام کے اجلال اور اس کے درجہ کی عظمت کیلئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ فی الواقع آسمان سے اترے گا چنانچہ خود رسول کریم ال کی نسبت بھی یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور سب مفتر اس سے آپ ا کے شرف کا اظہار مراد لیتے ہیں اور وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ سب لوگ جانتے ہیں کہ آپ مکہ مکرمہ میں قریش کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپ کے والد کا نام عبداللہ تھا اور آپ کی والدہ کا نام آمنہ تھا۔ وہ آیت جس میں رسول کریم اللہ کے نزول کا ذکر ہے یہ ہے۔ قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُولَا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ ايَتِ اللهِ مَبَيِّنَتِ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ ٣٢۔ یعنی اللہ تعالٰی نے تم پر ذکر یعنی رسول نازل کیا جو تمہیں اللہ کی کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تا کہ مومنوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاوے ۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی لفظ رسول کریم ال کی نسبت اور مسیح علیہ السلام کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے مگر آنحضرت اللہ کی نسبت اس کے معنی اور کر دیئے جاتے ہیں اور مسیح کی نسبت اس کے اور معنی کر دیئے جاتے ہیں جب آنحضرت ا اسی زمین پر پیدا ہوئے اور آپ کی نسبت نزول کا لفظ استعمال کیا گیا تو کون سے تعجب کی بات ہے اگر یہی لفظ آنے والے مسیح کی نسبت استعمال کیا جائے اور اس سے مراد اس کی پیدائش اور بعثت ہو۔ تیسرا شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ حدیثوں میں آنے والے کا نام عیسی ابن مریم رکھا گیا ہے پس اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہی بعینہ دوبارہ تشریف لائیں گے لیکن یہ معترض خیال نہیں کرتے کہ کثرت سے ان کے شعروں میں عیسیٰ کا لفظ دوسرے لوگوں کی نسبت استعمال ہوتا ہے مگر اس کو یہ قابل اعتراض نہیں سمجھتے لیکن اللہ تعالیٰ کے کلام میں اگر ایک شخص کا نام بھی عیسی رکھ دیا گیا تو اس پر تعجب آتا ہے ۔ پھر روزانہ سخی لوگوں کی نسبت حاتم طائی اور فلسفیانہ دماغ رکھنے والوں کی نسبت محقق طوسی اور استخراج مسائل کا مادہ رکھنے والوں کی نسبت فخر رازی کا لفظ استعمال کرتے ہیں مگر ابن مریم کے الفاظ ان کے دلوں میں شبہات پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر ابن مریم کے الفاظ تعیین کے معنی دیتے ہیں تو کیا طائی اور طوسی اور رازی تعیین کے معنی نہیں دیتے پھر اگر باوجود ان الفاظ کے استعمال کے ان کی یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ شخص