انوارالعلوم (جلد 7) — Page 321
۳۲۱ عیب لگانا چھوڑ دو اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں پیش کرو اور اگر اس کے لئے بھی تیار نہیں ہیں توپھریہ کریں کہ ہندو اور مسلمان اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔کیا کوئی ایسامذ ہب ہے کہ جس میں کوئی خوبی نہیں بلکہ وہ اس لئے قائم ہے کہ دوسرے مذاہب جھوٹے ہیں۔ایسامذہب جس میں کوئی بھی خوبی نہیں ہو ایک منٹ کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ہر ایک مذہب کا دعوٰی تو یہ ہے کہ ساری خوبیاں اسی میں ہیں اور کوئی دو سراب اس کی خوبیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔جب یہ دعوی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مذہب کے پیرو اس کی خوبیاں بیان نہ کریں۔اسلام اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیا ہے کہ اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ اے مسلمانو! حکمت کی باتیں کرو اور اپنے رب کے احسن اصول پیش کرو تمہیں دیگر مذاہب پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں کیا تم خدا کو بتانا چاہتے ہو کے فلاں مذہب کے لوگوں میں یہ نقائص ہیں خدا خوب جانتا ہے کہ کون اس کے رستے سے بھٹکا ہوا ہے اور کون سیدھے رستہ پر ہے پس تم اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرو۔پس اگر ہندوصاحبان یہ نہ مانیں کہ رسول کریم ﷺخداسچے نبی تھے تو یہ اقرار تو کریں کہ وہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں گے اور اسلام پر اعتراض نہیں کریں گے۔اگر یہی مان لیں تو اتحاد کے لئے یہ بھی کافی ہے۔ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مرزا صاحب (علیہ الصلوة والسلام) نے اس امر کو بہت عرصہ قبل پیش کیا تھا مگر افسوس کہ ملک نے توجہ نہ کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اتحاد نہ ہو سکا اور نہ آئندہ اس وقت تک ہو سکے گا جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔کم از کم دو سرے مذہب کے بزرگوں کو گالیاں نہ دو تیسرے اگر کوئی کہے کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا تو بھی ہم اتفاق و اتحاد کے لئے تیار ہیں اور وہ اس اقرار پر کہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں مت دو۔ان کو جھوٹا، فریبی مکار اور دغاباز مت کہو نہ یہ کہو کہ انہوں نے بے وقوفی اور کم عقلی کی تعلیم دی ہے اور اس قسم کے ٹریکٹ نہ شائع کرو جیسے محمد کا کچا چٹھاوغیرہ کے نام سے شائع کئے گئے ہیں جن میں سوائے گالیوں اور لغو اعتراضات کے کچھ نہیں ہوتا۔ہمارا تو سب کچھ خدا اور اس کا رسول ہی ہے