انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 320

۳۲۰ سارے مسلمان ہندو ہو جائیں یا سارے ہندو مسلمان ہو جائیں۔بلکہ اس کا طریق یہ ہے کہ سب مذاہب والے ایک دوسرے کے مذاہب کے بزرگوں کا احترام کریں۔اس میں شبہ نہیں کہ ہندوستان ہم کو جمع کر سکتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ محمدﷺ اس کی ذات والاصفات سے بڑھ کر ہمارے نزدیک ہندوستان کی پوزیشن نہیں۔رسول کریم اﷺسے ہمیں جو تعلق ہے وہ ہندوستان کے تعلق سے بہت بڑھ کر ہے اور آپ سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ہم ہندوستان سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔اگر آپ کا ادب اور احترام قائم نہ رکھا جائے تو مسلمانوں کو کوئی چیز جمع نہیں کرسکتی۔ہرمذہب کے بانی اور پیشوا کی عزت کرو اگر کہو کہ یہ صلح کیونکر ہوسکتی ہے تو میں بتاتا ہوں کہ اسلام نے اس کا طریق بتادیا ہے اور میں اسلام کے اس طریق پر عمل کرنے والا کھڑا ہوں۔کسی مذہب کا بانی اور پیشوا ہو میں اس کی عزت اور احترام کرتا ہوں۔اگر کوئی ہندو کہے کہ کیا تم را مچند ر کو مانتے ہو؟ تو میں کہوں گا میں ان کو نبی مانتا ہوں کیوں اس لئے کہ قرآن کریم کہتاہے ان من امة الأخلافيهانذیرا کہ ہر قوم میں خدانبی بھیجتا رہا ہے پس اگر میں یہ کہوں کہ رام چندرجی اور کرشن جی جھوٹے تھے تو اس سے قرآن مجید غلط ٹھہرتا ہے۔پس قرآن مجید نے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ایک مسلمان دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی عزت کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے بے عزتی کرنے کے لئے نہیں۔یہ تو مسلمانوں کا حال ہے اب میں ہندوؤں سے پوچھتا ہوں (اس پوچھنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ مجھے جواب دیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے دلوں میں غور کریں اور سوچیں )کہ کیا وہ بھی اس کے لئے تیار ہیں۔اگر تیار ہوں تو پھر ایسی مضبوط صلح ہو سکتی ہے کہ جو عمر بھر نہیں ٹوٹ سکتی۔اس کے متعلق میں یہ نہیں کہتا کہ ہندو یونہی اس بات کو مان لیں بلکہ یہ کہتا ہوں کہ عقل و فکر سے کام لے کر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا ساری دنیا کے انسان خدا کے بندے نہ تھے اگر تھے اور ضرور تھے تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہندوستان میں تو اپنے نبی بھیجے اور دوسرے ممالک میں نہیں بھیجے۔ضرور ہے کہ وہاں بھی بھیجے ہوں پس میں یہ نہیں کہتا کہ ہندو منافقت سے رسول کریم اﷺکی رسالت کا اقرار کریں بلکہ ان میں ان کی عقلوں سے اپیل کرتا ہوں کہ کیا سچی بات نہیں کہ خداتعالی ٰنے دنیا کی ہدایت کے لئے آپ کو بھیجا؟