انوارالعلوم (جلد 7) — Page 307
۳۰۷ ہندو کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ مختلف فرقے ہیں جو اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا اخبار لیڈر میں ہندو مذہب کے متعلق مضامین چھپے تھے جو مختلف لوگوں نے لکھے تھے ان میں سے ایک نے لکھا تھا کہ کئی مذاہب کو جمع کر کے ہندومذ ہب بنادیا گیا ہے۔تو ہندو خود کوئی مذہب نہیں ہے اگر مسلمان ہندوستان سے مٹ گئے تو ان کی آپس میں لڑائی شروع ہو جائے گی کیا مسلمانوں سے پہلے ان میں لڑائیاں نہ ہوتی تھیں؟ بدھوں اور جینیوں میں کس قدر لڑائیاں ہوئیں۔مختلف فرقوں نے ایک دوسرے کو کس بے دردی سے قتل کیا اور اس طرح قتل کیا کہ بعض قوموں کا ایک آدمی بھینہ چھوڑا۔پس اگر مسلمان اور انگریز ہندوستان سے نکل جائیں تو ہندو کمانے والے آپس میں لڑیں گے اس لئے یا تو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ہندوؤں کا بھی کوئی ایک ہی فرقہ ہندوستان میں رہے۔ورنہ یاد رکھنا ہوا ہے کہ مسلمانوں سے ہندوستان خالی کرا دینے سے صلح نہیں ہوسکتی۔دراصل صل نیتوں کی صفائی سے ہی ہو سکتی ہے اور کسی طرح نہیں ہو سکتی۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنازعات اس کوشش کا کیا نتیجہ ہوا جو ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کے مٹانے کے لئے شروع ہوئی یہ کہ مسلمانوں نے سمجھا ہمارامذہب مٹنے لگا ہے اس وجہ سے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو مذہب بنا کر لڑنےلگے۔کہیں جلوس پر لڑائی ہوئی، کہیں تعزیئے پر، کہیں اذ ان پر اسی طرح ہندوؤں نے کہا کہ اگر تمہارےتعزئیے نکلتے ہیں تو ہم باجے بجائیں گے اور مسجدوں کے پاس سے گذریں گے۔اگر ان باتوں پر کوئی غور کرے تو حیران رہ جائے کہ یہ بڑے آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں یا بچے۔باجوں کے مسجدوں کے پاس بجنے میں کیا بات ہے اور ان کے روکنے میں کیا؟ ان کا بجانا اور روکنا دونوں بچوں والی باتیں ہیں۔میرے نزدیک توتعزئیے مذہب میں شامل نہیں مگر جو تعزئیے بناتے ہیں وہ بھی ان کو مذ ہب کا جزو نہیں سمجھتے۔پس اول تو یہ مذہب کا جزو نہیں اور اگر ہوں تو ان کے ایک رستہ سے گذرنے میں کونسی فضیلت ہو سکتی ہے اور دوسرے رستہ میں گذرنے میں کونسی ہتک ہو سکتی ہے۔اسی طرح با جابجا نا مذہب کا فرض نہیں اور یہ بات تو بالکل ہی سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کسی قوم کا معبد آئے تو ضرورہی اس کے پاس با جا بجانا چاہئے۔ایسی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی عقلیں ٹھکانے نہیں رہیں اور یہ بچوں کی سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں۔