انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 306

۳۶۰ بات یہ ہے کہ ہمیں تو الفاظ سے کوئی تعلق نہیں۔جس بات میں خدا اور اس کے رسول کی عزت ہو، ہمیں تو وہی پسند ہے۔ہم کبھی ایک منٹ کے لئے بھی اس امر کو جائز نہیں سمجھتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص آئے جو آپؐ کی رسالت کو ختم کردے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ بنائے اور نئی شریعت اپنے ساتھ لائے یا شریعت کا کوئی حکم بدل دے یا جو لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نکال کر اپنی اطاعت میں لے آئے یا آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر ہو یا کچھ بھی فیض اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کے بغیر ملا ہو، اگر ایسا کوئی آدمی آئے تو ہمارے نزدیک اسلام باطل ہو جاتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے جو وعدے تھے جھوٹے ہوجاتے ہیں۔لیکن ہم اس امر کو بھی کبھی پسند نہیں کر سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو ایسا سمجھا جائے کہ گویا آپؐ نے تمام فیوض الٰہی کو روک دیا ہے اور آپؐ بجائے دُنیا کی ترقی میں ممد ہو نے کے اس کے راستہ میں روک بن گئے ہیں اورگویانعوذ باللہ من ذالک آپ ؐ بجائے دُنیا کو خدا تعالیٰ تک پہنچا نے کے اسے وصول الی اللہ کے اعلیٰ مقامات سے محروم کر نے والے ہیں۔جس طرح پہلا خیال اسلام کے لئے تباہ کرنے والا ہے، اسی طرح یہ دوسرا خیال بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ایک خطرناک حملہ ہے، اور ہم نہ اُسے قبول کرتے ہیں اور نہ اسے برداشت کرسکتے ہیں ، ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے رحمت تھے۔اور ہمارا پکا یقین ہے کہ یہ بات ہر ایک آنکھ رکھنے والے کو نظر آرہی ہے۔آپؐ نے آکر دنیا کو فیوض سماوی سے محروم نہیں کردیا بلکہ آپؐ کے آنے سے اللہ تعالیٰٰ کے فیوض کی روانی پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر پہلے وہ ایک نہر کی طرح بہتے تھے تو اب ایک دریا کی طرح بہتے ہیں، کیونکہ پہلے علم اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا اور علم کامل کے بغیر عرفانِ کامل بھی حاصل نہیں ہو سکتا اور اب علم اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔قرآن کریم میں وہ کچھ بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کی کتب میں بیان نہیں کیا گیا تھا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل لوگوں کو عرفان میں زیادتی حاصل ہوئی ہے اور عرفان میں زیادتی کی وجہ سے اب وہ اُ ن اعلیٰ مقامات پر پہنچ سکتے ہیں جن پر پہلے لوگ نہیں پہنچ سکتے تھے اور اگر یہ ایمان نہ رکھا جائے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہ جاتی ہے۔پس ہم اس قسم کی نبوت سے تو منکر ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد ہو کر حاصل ہو تی ہو، اور اسی وجہ سے ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیح ناصریؑ کی آمد سے مُنکر ہیں مگر ہم اس قسم کی نبوت کی نفی نہیں کر سکتے جس سے رسول