انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 308

۳۰۸ سنگٹھن پھر ایک اور تاریک جو ان فسادوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پہلے کی تھی اس کو اب زیاده زور حاصل ہو گیا اور وہ سنگٹھن کی تحریک ہے۔کہا جا تا ہے کہ یہ تحریک ہندو مسلمانوں کے موجودہ فسادات کی وجہ سے شروع ہوئی مگر جو شخص پنڈت مالویہ صاحب کے حالات سے واقف ہو گا اسے معلوم ہو گا کہ جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا ہے اسی وقت سے اس تحریک میں لگے ہوئے ہیں۔ہاں پہلے ان کی کوئی بات نہیں سنا تھا مگر ان کے واقعے انہوں نے فائده اٹھایا اور ہندووں کو اس کے لئے تیار کر لیا ہے۔مسلمان اس تحریک سے بدک گئے اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ ہندوؤں کی یہ کمیٹیاں جو الگ بن رہی ہیں یہ ہمارے خلاف اور ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے بنی ہیں یہ نہیں بننی چاہئیں۔فسادات کے بعد اس تحریک کے زور پکڑ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہی خیال آیا کہ یہ فسادات کے بعد شروع ہوئی ہے۔مگر دراصل یہ پہلے کی شروع ہے جن حالات کے ماتحت اس میں زور آیا ہے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف کہہ سکتے ہیں۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اس تحریک پر ناراض ہوں اور یہ کہیں کہ ہندو کیوں اس پر عمل کرتے ہیں۔تحریک شدھی ٍشدھی کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ یہ ہندوؤں نے شروع کی اور مسلمانوں میں اس کی وجہ سے بھی نارضگی پیدا ہوئی مگر میں قطعا نہیں سمجھتا کہ مسلمان شد هی پر ناراض کیوں ہیں۔ہندوؤں کا شدھی کو جاری کرایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں کادو سروں کو مسلمان بنانا۔پس اگر کوئی دوسروں کو اپنےمذہب میں داخل کرتا ہے تو ہم ناراض کیوں ہوں۔عیسائی ہندوؤں سے زیادہ لوگوں کو عیسائی بنا رہے ہیں ان سے کوئی ناراض نہیں ہوتا پھر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمان ہندووں سے شدھی کی وجہ سے کیوں ناراض ہیں۔میں نے بارہا اپنی گفتگوؤں اور تقریروں میں ذکر کیا ہے کہ شدھی پر ناراض ہونے کی مسلمانوں کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں چونکہ ان کے مذہب میں کسی کو داخل کرنے کی اجازت نہیں اسی لئے مسلمان ناراض ہیں مگر میں کہتا ہوں اس پر تو ان کے پنڈتوں کو ناراض ہوناچا ہیے نہ کہ ہمیں۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی ہندو مسلمانوں سے اس بات پر لڑے کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے۔میرے نزدیک مسلمانوں کو شدھی پر قطعاًء ناراض نہیں ہونا چاہئے اور میں تو اس کو نہایت ہی پسند کرتا ہوں کیونکہ جب تک کسی قوم میں یہ ولولہ نہ ہو کہ دوسروں کو اپنے اندر داخل کرے اس وقت تک وہ بھی دو سروں میں داخل نہیں ہو سکتی۔اب جبکہ ہندوؤں میں یہ ولولہ پیدا ہو رہا ہے