انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 103

۱۰۳ نجات کی اس لئے اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور بہشت کے فرشتے کہتے کہ چونکہ یہ توبہ کرنے کے لئے روانہ ہو چکا تھا اس لئے بہشت میں جانا چاہئے۔اس پر اللہ تعالیٰ کہے گاکہ جاؤ دونوں طرفیں نا پو۔پھر جس طرف جا رہا ہو گا اس کو کھینچ کر چھوٹا کر دے گا اور اس طرح وہ بہشت میں چلا جائے گا۔۔یہ ایک مثال ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ واقعہ میں زمین کھینچ دی گئی تھی بلکہ یہ مراد ہےکہ خدا تعالی ٰنے اس شخص کو توبہ کرنے والوں میں شامل کرلیا اور جنت کا وارث بنادیا۔پس جس عمل پر کوئی انسان مرتا ہے خواہ وہ ادھورا ہی رہے اس کا بدلہ اس کو مل جائے گا اور اس کا وہ کام ضائع نہیں جائے گا۔مردوں کی شہادت کہ تناسخ حق ہے ٍپانچواں اعتراض یہ تھا کہ مردوں کی روحوں سے بلوا کر پوچھا گیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ تناسخ حق ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات ہی درست نہیں کہ مردوں کی روحیں اس طرح بلوانے سے آجاتی ہیں۔انسان کے اندر ایک روحانی طاقت ہے جب کوئی شخص اس کو خاص طور پر استعمال کرتا ہے وہ عجیب عجیب نظارے دکھاتی ہے۔اس کے ماتحت جو لوگ روحوں کے بلوانے کی طرف توجہ کرتے ہیں ان کو رو حیں معلوم ہونے لگتی ہیں اور بعض دفعہ تو ان کی شکلیں نظر آنے لگتی ہیں لیکن حقیقتاً کوئی روح نہیں آتی کیونکہ تجربہ سے معلوم ہواہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف جگہوں پر روحوں کو بلوایا گیا اور سب جگہ ایک ہی روح نے جواب دیا۔اس طرح یہ بھی تجربہ ہواہے کہ ایک مذہب والے کو روح کچھ جواب دیتی ہے اور دوسرے مذہب والے کو بھی جواب دیتی ہے حالانکہ اگر روح في الواقعی آئی تو ایک وقت میں اگر ایک ہی روح کو کئی جگہ بلوایا جاتا تو ایک جگہ وہ آتی اور باقی جگہوں پر کوئی چیزنہ آتی اسی طرح چاہئے تھا کہ روحیں سب کو ایک ہی جواب دیتیں حالانکہ وہ مختلف جواب دیتی ہیں۔پس معلوم ہوا کہ یہ سب غلط فہمی کا نتیجہ ہے اپنے ہی خیال کو روح سمجھ لیا گیا ہے۔تناسخ پر اعتراض تناسخ کے ماننے والوں کے ان موٹے موٹے اعتراضوں کا جواب دینے کے بعد اب ہم خود تناسخ کے مسئلہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا؟ یہ بالکل خلاف عقل ہے کہ ایک بات رد ہو جانے سے دوسری بات آپ ہی آپ ثابت ہو جائے۔اگر ایک امرکی کئی توجیہہ ہو سکتی ہیں تو صرف ایک توجیہہ کے رد ہو جانے سے دوسری توجیہات رد نہیں ہو سکتیں۔پس جب تک تناسخ کو رد نہ کیا جائے محض دوسرے