انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 102

۱۰۲ نجات ہر اک بات کا کوئی سبب ہونا چاہئے تیسرا اعتراض یہ تھا کہ دنیا کی ہر اک بات کا کوئی سبب ہونا چاہے پھر اس اختلاف حالات کا کیا سبب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی ترقی کے لئے ضروری تھا کہ ہر ایک چیز کچھ اثر اپنے اندر رکھے اور کچھ تاثیر۔اگر یہ دونوں قوتیں مٹادی جائیں تو کل کارخانہ عالم تباہ ہو جاتا ہے۔پس ان دونوں قوانین کے ماتحت جو بچہ ماں باپ کے ہاں پیدا ہوتا ہے وہ ان کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اور اس تغیر کا سبب یہی ہے کہ جن کے گھر میں وہ پیدا ہوا تھاوہ ان حالات میں گذر رہے تھے۔ایک شخص جو زہر کھاتا ہے مرجاتا ہے اور اگر اس کو کوئی زہردیتاہے تو بھی وہ مرجاتا ہے اسی طرح جو بچہ جس باپ کے جسم سے بنتا ہے اپنے سرچشمہ کی طاقتیں بھی حاصل کرنا ہے۔اگر سرچشمہ کمزور ہے تو وہ بھی کمزور ہوتا ہے اگر سرچشمہ طاقتور ہے تو وہ بھی طاقتور ہوتا ہے۔پس یہ عام قد رتی سبب ہی اس تغیر کا سبب ہے۔ادھورے رہ جانے والے کاموں کاا جر چوتھا اعتراض یہ تھا کہ ایک کام کرتے کرتے انسان مرجاتا ہے وہ کام پورا نہیں ہو گا اس میں بے فائدہ محنت کرنی پڑتی ہے۔اگر یہ پچھلے اعمال کی وجہ سے نہیں ہوتا تو کیوں خدا وہ کام کرتا ہے جس کا نتیجہ مرتب نہیں ہوا؟ اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کی انسان کو خاص حکم سے نہیں مارتا بلکہ انسان عام قانون قدرت کی نافرمانی سے یا عام قانون قدرت کی زد میں بلا جانے بو جھے آکر مرتا ہے۔مگر اسلام سے بتاتا ہے کہ اس صورت میں جس نیک کام کو کرتے کرتے انسان مرجاتاہے اور وہ کام ادھورا رہ جاتا ہے وہ اس کے اعمال میں پورا لکھا جاتا ہے اور بغیر اس کام کے کرنے کے اس کا اجر مل جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی نیکی کا کام کر رہا ہو اور قانون طبعی کے ماتحت اسے موت آجائے تو خدا اس کام کو اس کے حق میں لکھ دے گا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص جس نے بہت سے گناہ کئے تھے اس نے توبہ کرنی چاہی۔اس نے ننانوے قتل کئے تھے ایک شخص سے اس نے پوچھامیں توبہ کر کے اپنے گناہ بخشوا سکتا ہوں یا نہیں؟ اس نے کہا نہیں۔اس کو بھی اس نے قتل کر دیا پھر اس کو پشیمانی ہوئی اور خیال آیا شاید میری توبہ قبول ہو جائے۔اسے معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ایک شخص رہتا ہے اس سے پوچھنا چاہے اس کی طرف چل پڑامگر رستہ میں ہی مر گیا۔حدیث میں آتا ہے کہ اس کے متعلق دوزخ اور بہشت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا - دوزخ کے فرشتے کہتے کہ اس نے توبہ نہیں