انوارالعلوم (جلد 7) — Page 104
۱۰۴ نجات خیالات کو رد کرنے سے یا ان پر اعتراضات کرنے سے تنا سخ ردّنہیں ہو سکتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تناسخ کوئی دلیل بھی نہیں۔تناسخ کے ماننے والوں کا سارا دارومدار اس امر ہے کہ وہ دوسرے خیالات پر اعتراض کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کا عقیدہ ثابت ہو گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر غور کیا جائے تو یہ عقیدہ عقل سے اور مشاہدہ سے اور خود ہندوؤں کے عمل سے بالکل خلاف عقل ثابت ہوتا ہے۔مثلاً (۱) ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ہندو عقیدہ کے روسے یہ دنیا ایک عذاب کا مقام ہے اور اس سے چُھٹ جانا نجات ہے۔پھر بھی اگر ہندوؤں میں سے کوئی مرجائے تو اس پر افسوس کرتے ہیں اور روتے ہیں حالانکہ اگر یہ دنیا ایک عذاب ہے اور اس کی گرفت سے نکل جانااصل مقصد ہے تو چاہئے کہ مرنے والوں پر خوش ہوں کہ انہوں نے ایک منزل طے کرلی اور خصوصاً بچوں کی موت پر تو بہت ہی خوشی ہونی چاہئے کہ انہوں نے بلا کسی گناہ کے اپنی اس جون کو طے کر لیا مگر مرنے والوں پر ہندوؤں کا ماتم بتاتا ہے کہ وہ ایک طرف تو ان حوادث کو قانون قدرت کا اثر سمجھتے ہیں اور دوسری طرف تناسخ کی تائید پر اصرار کے ساتھ کمربستہ ہیں جو خلاف عقل ہے۔(۲) ہندوؤں کے نزدیک نجات نام ہے اس جسم سے چُھٹنے کا کیو نکہ سکھ دکھ جسم سے تعلق رکھتے ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ اس جسم میں آنا ایک سزا ہے۔چنانچہ ان کے عقائد سےثابت ہوتا ہے کہ جب انسان ادنیٰ حالت میں آتا ہے تو جونوں کے چکر میں پھنستا ہے اور جب ترقی کرتا ہے تو اس چکر سے آزاد ہو جاتا ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ باوجود اس کے وہ اولاد کی خواہش کرتے ہیں۔گویا ایک طرف تو اس دنیا میں جیٗو کا آنا سزا کا موجب سمجھتے ہیں اور دو سری طرف اس امر کی خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے گھر بھی کچھ قیدی آویں گویا وہ اولاد کی خواہش کر کے جیوؤں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔(۳) پھر تناسخ کے عقیدہ پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ پہلی دفعہ روحوں کو جسم میں کیوں داخل کیا گیا تھا۔یہ کونسا انصاف تھا کہ ان کو جونوں کے چکر میں پھنساکر تکلیف دی جاتی؟ ہندو یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہلے انسان پیدا کیا گیا تھا جو اچھی حالت ہے کیونکہ ان کے عقیدہ کے رو سے خواہ انسان بنایا جائے خواہ کچھ بنایا جاۓ روحوں کی اطمینان کی حالت جونوں سے الگ ہو کر سکھ دکھ کے احساس سے بچ جانا ہے۔پس اس دنیا میں خواه انسان بنا کر بھیجا جائے یہ ایک عذاب ہے اور دکھ ہے یہ دکھ بلاوجہ کیوں دیا گیا؟