انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 365

۳۶۵ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِکے الفاظ کی موجود گی میں نہ صرف اور مسجد یں بنوارہے ہیں بلکہ اس قدر مساجد تیار کر وارہے ہیں کہ آج بعض شہروں میں مساجد کی زیادتی کی وجہ سے بہت سی مساجد ویران پڑی ہیں۔بعض جگہ تومسجدوں میں بیس بیس گز کا فاصلہ بھی بمشکل پایا جاتا ہے اگر اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ کے آنے کے باعث کوئی انسان نبی نہیں ہو سکتا تو اٰخِرُ الْمَسَاجِدِکے بعد دوسری مسجدیں کیوں بنوائی جاتی ہیں۔اس سوال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ مسجدیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی مسجد یں ہیں کیونکہ اُن میں اسی طریق پر عبادت ہو تی ہے جس طریق کی عبادت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوائی تھی۔پس بوجہ ظلّیت کے یہ اس سے جُدا نہیں ہیں۔اس لئے اس کے آخر ہونے کی نفی نہیں کرتیں۔یہ جواب درست ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح فاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِکے باوجودایسے نبی بھی آسکتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور ظل کے ہوں اور جو بجائے نئی شریعت لانے کے آپؐ ہی کی شریعت کے متبع ہوں اور آپؐ کی تعلیم کے پھیلانے ہی کے لئے بھیجے گئے ہوں اور سب کچھ اُن کو آپؐ ہی کے فیض سے حاصل ہوا ہو۔اس قسم کے نبیوں کی آمد سے آپ کے آخر الانبیاء ہونے میں اسی طرح فرق نہیں آتا جس طرح آپؐ کی مسجد کے نمونے پر نئی مساجد کے تیار کرانے سے آپؐ کی مسجد کے آخر المساجد ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔اسی طرح لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ کے بھی یہ معنی نہیں کہ آپؐ کی بعثت کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ اس کے بھی یہ معنی ہیںکہ ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپؐکی شریعت کو منسوخ کرے۔کیونکہ بعد وہی چیز ہو سکتی ہے جو پہلی کے ختم ہونے پر شروع ہو۔پس جونبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تائید کے لئے آئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نبی نہیں کہلا سکتا۔وہ تو آپؐ کی نبوت کے اندر ہے بعد تو تب ہو تا جب آپؐ کی شریعت کا کوئی حکم منسوخ کرتا۔عقلمند انسان کا کام ہوتا ہے کہ ہر ایک مضمون پر پورے طورپرغور کرے اور لفظوں کی تہ تک پہنچے۔غالباً انہیں لوگوں کے متعلق اسی قسم کے دھوکے میں پڑجانے کا ڈر تھا جس کے باعث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قُوْلُوْا اِنَّہٗ خَاتَمُ الْاَنْبِیَآئِ وَلاَ تَقُوْ لُوْ ا لاَ نَبِیَّ بَعْدَہٗ( تکملہ مجمع بحار الانوار جلد ۴ صفحہ ۸۵ مطبوعہ مطبع العالی المنشی نولکشور ۱۳۱۴ھ)یعنی اے لوگو! یہ تو کہو کہ آپؐ خاتم النبیّین تھے مگر یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، اگر حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا نبی بھی نہیں آسکتا تھا تو آپؐ نے لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کہنے سے لوگوں کو کیوں روکا اور اگر اُن کا خیال درست نہ تھا تو کیوں صحابہؓ نے ان کے قول کی