انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 364

۳۶۴ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ایک مُہر نبوت تھی۔(بخاری کتاب المناقب باب خاتم النّبوّۃ ) کاش! لوگ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرتے تو اُن کو یہ دھوکا نہ ہوتا ، اگر وہ یہ دیکھتے کہ اس آیت میں مضمون کیا بیان ہو رہا ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ پہلے اس آیت میں یہ بتا یا گیاہےکہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور پھر اس کے بعد لٰکِنْلا کر رسول اور خاتم النّبیّین کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ لٰکِنْ ازالۂ شبہ کے لئے آیا کرتا ہے اور یہ بات ہر ایک مسلمان جانتا ہے کہ پہلے فقرے سے یہی شُبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ سورہ کوثر میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَا لْاَبْتَرُ o(سورۃ الکوثر -آیت ۴) تیرا دشمن ہی ابتر ہے تو ابتر نہیں اور یہاں خود تسلیم فرماتا ہے کہ آپؐ کی نرینہ اولاد نہ ہوگی پس اس شبہ کے ازالہ کے لئے لفظ لٰکِنْ استعمال فرماکر بتا یا کہ اس بیان سے بعض لوگوں کے دلوں میں ایک شبہ پیدا ہوسکتا ہے اس کا ہم ازالہ کردیتے ہیں اور وہ اس طرح کہ گو جسمانی طور پر یہ مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں تو بھی یہ ابتر نہیں کہلا سکتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰٰ رسول ہے۔پس اس کا روحانی سلسلہ وسیع ہو گا اور اس کی روحانی اولادبے انتہا ء ہوگی پھر وخاتم النبیین فرماکر پہلے مضمون پر اور ترقی کی کہ نہ صرف بہت سے مومن اس کی اولاد میں ہوں گے بلکہ یہ نبیوں کی بھی مہر ہے اس کی مُہر سے انسان نبوت کے مقام پر پہنچ سکے گا۔پس نہ صرف معمولی آدمیوں کا یہ باپ ہوگا بلکہ نبیوں کا بھی باپ ہوگا۔غرض اس آیت میں تو اس قسم کی نبوت کا دروازہ کھولا گیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے نہ کہ بند کیا گیاہے۔ہاں اس نبوت کا دروازہ بیشک اس آیت سے بندکر دیا گیا ہے جو نئی شریعت کی حامل ہو یا بِلا واسطہ ہو، کیونکہ وہ نبوت اگر باقی ہو تو اس سے آپؐ کی روحانی اَبُوّت ختم ہو جائے گی اور اس کی اس آیت میں نفی کی گئی ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلٰوۃ بمسجدی مکّۃ والمدینۃ )اور اسی طرح یہ فرمایا۔لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔(مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب الوفاء بیعۃالخلیفۃ الاوّل فالاوّل ) پس ان احاد یث کی رُو سے آپ ؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا مگر افسوس کہ یہ لوگ آخر الانبیاء تو دیکھتے ہیں، مگر مسلم کی حدیث میں جو اس کے ساتھ ہی وَاِنَّ مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلٰوۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ )آیا ہے اسے نہیں دیکھتے۔اگر فاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِکے معنی ہیں کہ آپؐ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں تو وَاِنَّ مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے بھی یہ معنی ہوں گے کہ مسجد نبوی کے بعد کوئی مسجد نہیںبنوائی جا سکتی،لیکن وہی لوگ جو فَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِکے الفاظ سے استدلال کر کے ہر قسم کی نبوت کی نفی کر دیتے ہیں۔وہ وَاِنَّ مَسْجِدِیْ