انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 366

۳۶۶ تردیدنہ کی۔پس اُن کالَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کہنے سے روکنا بتا تا ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی تو آسکتا تھا مگر صاحب شریعت نبی یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد نبی نہیں آسکتا تھا اور صحابہؓ کا آپؓ کے قول پر خاموش رہنا بتا تا ہے کہ باقی سب صحابہ ؓ بھی ان کی طرح اس مسئلہ کو مانتے تھے۔افسوس لوگوں پر کہ وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے اور خود ٹھو کر کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ٹھوکر کھلاتے ہیں اور پھر افسوس ان پر کہ وہ اُن لوگوں پر جو ان کی طرح ٹھوکر نہیں کھاتے ، غصے ہوتے ہیں اور انہیں بے دین اور کافر سمجھتے ہیں مگر مومن لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتا۔وہ خدا کی ناراضگی سے ڈرتا ہے۔انسان دوسرے کا کیا بگاڑ سکتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرے گا کہ اس کو مار دے مگر مومن موت سے نہیں ڈرتا۔اس کے لئے تو موت لقائے یار کا ذریعہ ہوتی ہے۔کاش! اگر وہ قرآن کریم پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ ایک وسیع خزانہ ہے اور ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انسان کی تما م ضروریات کو پُورا کرنے والا ہے۔اس کے اندر روحانی ترقیات کی اس قدر راہیں بیان کی گئی ہیں کہ اس سے پہلے کی کتب میں ان کا عُشرِ عَشِیر بھی بیان نہیں ہوا اور اگر انہیں یہ بات معلوم ہو جاتی تو وہ کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی حالتوں پر خوش نہ ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرنے میں قدم مارتے اور اگر وہ لفظوں کی بجائے دلوں کی اصلاح کی قدر جانتے تو ظاہر علوم کے پڑ ھ لینے پر کفایت نہ کرتے بلکہ خدا تعالیٰ سے تعلق پید اکرنے کی کوشش کرتے اور اگر یہ خواہش ان کے دِل میں پیدا ہو جاتی تو پھر ان کو یہ جستجو بھی پیدا ہو تی کہ قرآن کریم نے کس حدتک انسان کے لئے ترقی کے راستے کھولے ہیں اور تب انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ ایک چھلکے پر خوش ہو کر بیٹھ رہے تھے اور ایک خالی پیالہ مُنہ کو لگا کر مست ہو نا چاہتے تھے۔کیا وجہ ہے کہ وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں، لیکن ان کے دل میں کبھی یہ خواہش نہیں پیدا ہوتی کہ وہ انعام جو اس کے اندر بیان کئے گئے ہیں ہمیں بھی ملیں۔وہ رات دن میں پچاس دفعہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ o صِرَا طَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ(سورۃ الفاتحہ آیت ۷۔۶)پڑھتے ہیں، لیکن ان کے دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہوتا کہ وہ کونسا انعام ہے جو ہم طلب کررہے ہیں۔اگر وہ ایک دفعہ بھی سمجھ کر نماز پڑھتے تو ان کا دل اس فکر میں پڑجاتا کہ صِرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اور صِرَاطََ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم سے کیا مراد ہے اور پھر ان کی توجہ خود بخود سورہ النساء کی ان آیات کی طرف پھر جاتی کہ وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا