انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 355

۳۵۵ دعوة الا میر قوال میں اتحاد کی صورت یہی ہے کہ لَا الْمَھْدِیُّ اِلاَّ عِیْسٰی دوسری حدیث کی تشریح ہے یعنی پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسیح علیہ السلام کے نزول کی خبر ایسے الفاظ میں دی تھی جس سے یہ شُبہ پڑتاتھا کہ دو علیحدہ علیحدہ وجود ہیں اس کو لَا الْمَھْدِیُّ اِلاَّ عِیْسٰی والی حدیث سے کھول دیااور بتادیا کہ وہ کلام استعارۃً تھا ، اس سے صرف یہ مراد تھی کہ اُمت محمدیہ کا ایک فرد پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا جائیگا،لیکن کسی رسول کا مقام اسے نہیں دیا جائے گا۔لیکن بعد میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی پیشگوئی بھی اسی کے حق میں پوری کی جائے گی اور وہ عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے گا، اس طرح گویا اُس کے دو مختلف عہدوں کے اظہار کا وقت بیان کیا گیا ہے۔یعنی پہلے عام دعویٰ اصلاح ہو گا اور پھر دعویٰ مسیحیت ہو گا اور پیشگوئیوں میں اس قسم کا کلام عام ہوتا ہے بلکہ اگر اس قسم کے استعار ے پیشگوئیوں سے علیحدہ کر دئیے جائیں تو ان کا سمجھنا ہی بالکل ناممکن ہو جائے۔اگر یہ معنی ان احادیث کے نہ کئے جائیں تو دو باتوں میں سے ایک ضرورماننی پڑے گی اور وہ دونوں ہی خطر ناک ہیں۔یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ لَا الْمَھْدِیُّ اِلاَّ ِعْیسٰی والی حدیث باطل ہے اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ مہدی کا کوئی الگ وجود نہیں بلکہ مسیح اور مہدی کے درجات کا مقابلہ کیا گیا ہے اور بتایا گیاہے کہ اصل مہدی تو مسیح ہی ہوں گے۔دوسرا مہدی تو اُن کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔جس طرح کہہ دیتے ہیں کہ لاَ عَالِمَ اِلاَّ فُلاَ نٌ اور اس ے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس کے سوا کوئی عالم ہی نہیں، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے علم میں دوسروں سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے مقابلہ میں ان کا علم حقیر ہو جاتا ہے اور یہ دونوں معنی خطر ناک نتائج پید اکرنے والے ہیں کیونکہ ایک حدیث کو بلا وجہ باطل کر دینا بھی خطرناک ہے اور خصوصاً ایسی حدیث کو جو اپنے ساتھ شواہد بھی رکھتی ہے اور یہ کہنا کہ مہدی مسیح کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہ رکھیں گے ان احادیث کے مضامین کے خلاف ہے جن میں انہیں امام قرار دیا گیا ہے اور مسیح کو ان کا مقتدی۔غرض سوائے ان معنوں کے کہ امتِ محمدیہ میں ایک ایسے وجود کی خبر دی گئی ہے جو پہلے مصلح ہو نے کا دعویٰ کر ے گا اور بعد کو مسیح موعود ہو نے کا، ان احادیث کے اور کوئی معنی نہیں بن سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے سار ادھوکا اس امر سے کھایا ہے کہ حدیث میں نزول کا لفظ ہے اور اس لفظ سے سمجھ لیا گیا ہے کہ مسیح اول ہی دوبارہ دنیا میں نازل ہو ں گے حالانکہ نزول کے