انوارالعلوم (جلد 7) — Page 354
۳۵۴ دعوة الا میر غرض کسی نبی کے دوبارہ آنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے اور اس سے آپؐ کا وہ ودرجہ باطل ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰٰ نے آپؐ کو دیا ہے اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ لاَیُغَیِّرُمَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُ وْا مَا بِاَنْفُسَھِمْ ط (سورۃ رعدآیت۔آیت ۱۲) اللہ تعالیٰٰ کسی کو کوئی نعمت دیکر چھین نہیں لیا کرتا جب تک کہ خود ان کے اندر کوئی خرابی نہ پیدا ہو جائے۔اب اس عقیدے کو مان کر یا تو نعوذباللہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے یا پھر یہ مانناپڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ توڑ دیا اور باقی لوگوں سے تو وہ یہ سلوک کرتا ہے کہ ان کو نعمت دے کر واپس نہیں لیتا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے اس کے خلاف سلوک کیا ہے اور یہ دونوں باتیں کُفر ہیں کیونکہ ایک میں خدا تعالیٰ کا انکار ہے اور دوسری میں اس کے رسولؐ کا۔پس ان وجوہ سے ہم اس قسم کے عقائد سے بیزار ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام جن کی آمدکا وعدہ دیا گیا ہے اسی امت میں سے آنے والے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے کسی مقام پر ممتاز کر دے۔احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والامسیح اسی امت میں سے ہوگا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا الْمَھْدِیُّ اِلاَّ عِیْسٰی (ابن ماجہ کتاب الفتن باب شِدّۃ الزّمان مطبوعہ بیروت ۱۹۸۸ ء)سوائے عیسیٰ کے اور کوئی مہدی نہیں۔دوسری طرف فرماتے ہیں کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَانَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم) تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ان دونوں ارشادات نبویؐ کو ملا کر دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ان کے سوا کوئی اور مہدی نہیں اور وہ اس امت کے امام ہوں گے مگر اسی امت میں سے ہوں گے کہیں باہر سے نہ آئیں گے۔پس یہ خیال کہ مسیح علیہ السلام کوئی علیحدہ وجود ہوں گےور مہدی علیحدہ وجود، باطل خیال ہے اور لَا الْمَھْدِیُّ اِلاَّ عِیْسٰی کے خلاف ہے۔مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے آقا کے اقوال پر غور کرے اور جو تضاد اُسے بظاہر نظر آئے اسے اپنے تدبر سے دور کرے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ یہ فرمایا ہے کہ پہلے مہدی ظاہر ہوں گے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جو مہدی کی اتباع میں نماز ادا کریں گے۔اور دوسری دفعہ یہ فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام ہی مہدی ہیں، تو کیا ہمارا یہ کام ہے کہ آپ کے قول کو رد کریں یا یہ کام ہے کہ دونوں پر غور کریں۔اگر دونوں اقوال میں کوئی اتحاد کی صورت ہو تو اس کو اختیار کر لیں اور اگر کوئی ادنیٰ تدبر بھی کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گاکہ ان دونوں