انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 553

نے جو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں آیت فَلَا يُظْہِرُ عَلٰي غَيْبِہٖٓ اَحَدًااِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍٖ (الجن:۲۷۔۲۸) کو پیش کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کثرت سے غیب کی خبریں سوائے اپنے رسولوں کے دوسروں کو نہیں بتایا کرتا اورپھر اپنی بہت سی پیشگوئیوں کا ذکر کرکے قادیان کے ہندوؤں ،سکھوں اوران مسلمانوں میں سے جو آپ کے مخالف ہیں بعض کو بطور گواہ پیش کیا ہے آیا وہ لوگ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بات کی تصدیق کرتے ہیں یا اس سے انکار کرتے ہیں؟ اس وقت بھی ان گواہوں میں سے کئی آدمی زندہ موجود ہیں جو نہ صرف یہ کہ احمدی نہیں بلکہ احمدیت کے سخت دشمن یں۔ان سے آپ لوگ حلفیہ طور پر حضرت مسیح موعودؑ کے بیان کے متعلق شہادت لے سکتے ہیں اور اگر وہ لوگ شہادت دینے سے انکار کریں یا اپؑکے بیان کی تصدیق کریں تو پھر آپ لوگ غور کریں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر بھی کثرت سے غیب کی خبریں ظاہر کرے اور قرآن کریم کی آیت فَلَا يُظْہِرُ عَلٰي غَيْبِہٖٓ اَحَدًااِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ کواپنے فعل سے جھوٹا کردے؟ میں ان لوگوں میں سے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہادت کے طور پر پیش کیا ہے خصوصیت کے ساتھ لالہ ملاوامل صاحب کو پیش کرتا ہوں وہ آریہ ہیں اوران کے خاندان قادیان میں آریہ مت کے قیام کے لئے خاص طور پر جوش رکھتا ہے۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے وہ حوالہ جات سنا کر جن میں انہوں نے لالہ صاحب کی شہادت کو پیش کیا ہے آپؑکی مقرر کردہ حلف کے مطابق پوچھا جائے کہ کیا فی الواقع وہ ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں یا نہیں ؟ اورجب آپ دیکھیں کہ لوگ شہادت سے جی چراتے ہیں یا یہ کہ دبی زبان سے ان امور کی تصدیق کرتے ہیں تو پھر سمجھ لیں کہ وہ مولوی جنہوں نے یہ وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے کہ تقویٰ اور دیانت کو ایک طرف رکھ کر بعض متشابہات کی بناء پر جن کا وجود ہر نبی کی پیشگوئیوںمیں پایا جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کرتے رہتے ہیں کہاں تک حق بجانب ہیں اوران کے اس خطرناک رویہ سے بیزاری کا اظہار کرکے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہیں اور خود ہدایت پائیں اور دوسروں کے لئے ہدایت کا موجب بنیں۔اسی طرح آپ قادیان کے لوگوں سے قادیان کی وہ حالت جو آج سے تیس سال پہلے تھی دریافت کریں اورپھر ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کئے تھے ان کو دیکھیں اور قرآن کریم کی آیات وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی (طٰہٰ: ۶۲) جس نے جھوٹ باندھا وہ ناکام و نامراد رہ گیا اور وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا