انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 552

سے لالہ بڈھے مل صاحب ہیں جو شروع سے آپ ؑکی مخالفت پر آمادہ رہے ہیں ان سے دریافت کیجئے لالہ ملاوا مل صاحب ہیں جو اکثر آپ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ان سے پوچھئے سناتن دھرمیوں میں سے پنڈت جے کشن صاحب ہیں ان سے دریافت کیجئے ،سکھ صاحبان میں سے بھائی بوڑسنگھ و بھائی گنیشا سنگھ ،بھائی بھگوان سنگھ صاحبان ،غیر احمدیوں میں سے میاں امام الدین صاحب برادر میاں شادی صاحب قوم کشمیری ومیاں علی بخش صاحب نائی ،نواب راجپوت، چراغ شاہ قریشی، نکوارئیں،حسیناراجپوت۔پاس کے گائوں والوں سے مثلاً کالہواں کے بھائی جھڈا سنگھ صاحب سے اوربٹالہ کے شرفاء سے دریافت کیجئے مگر حلفی بیان لیجئے اور پھر سوچئے کہ کیا اس قسم کے راستباز انسان کی نسبت یہ خیال کیاجاتا ہے کہ وہ جھوٹا تھا۔رات کو تو وہ راستی اور صداقت کا مجسمہ بن کر لیٹا اور صبح جھُوٹ اور افتراء کا پُتلا بن کر اُٹھا۔کیا سچ کے لئے تکلیف اُٹھانے والوں اور نقصان برداشت کرکے بھی حق نہ چھوڑنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی بدلا ملا کرتا ہے کہ ان کو دجّال اور مفسدین بنا دیا جایا کرتا ہے اورانکے ایمان کو سلب کردیا جاتا ہے؟ اوراگر ایسا ممکن ہے تو پھر قرآن کریم کی آیت مذکورہ کا کیا مطلب ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوردیگر راستبازوں کی راستبازی کا کیا ثبوت ہے؟ اسی طرح آپ لوگ قادیان کے باشندوں اور اردگرد کے لوگوں سے بھی دریافت کریں کہ دعویٰ کے بعد بھی دنیاوی معاملات میں وہ لوگ مرزا صاحب ؑکو کیسا سمجھتے تھے سچّا یا جُھوٹا ؟ دنیاوی معاملات کی شرط مَیں اس لئے لگاتا ہوں کہ جب مخالفت ہوجاتی ہے تو جس امر میں مخالفت ہوتی ہے اس میں عام طور پر کمزور طبع لوگوںکواپنے جوشوںکو حد کے اندر رکھنے کی طاقت حاصل نہیں ہوتی اور اختلاف کی وجہ سے دوسروں کو اچھی بات بھی ان کو بُری معلوم ہوتی ہے اور جب اس تحقیق کے بعد بھی اسی نتیجہ پر پہنچیں کہ حضرت مرزا صاحبؑکی زندگی بےلوث اور صادقوں کی زندگی تھی تو سمجھ لیں کہ ان پر جس قدر الزامات بعض مولوی صاحبان لگاتے ہیں وہ صرف ضد اور تعصب کا نتیجہ ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں۔کیونکہ یہ بات عقل میں نہیں آسکتی کہ ایک شخص کی زندگی شروع سے لے کرآخر تک صدق و راستی کا نمونہ ہو لیکن آخری عمر میں وہ اس بات کا عادی ہوجائے کہ دین کے معاملہ میں اور اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ جھوٹ بولنے لگ جائے اگر یہ ممکن ہو تو قرآن کریم کی سچائی مشتبہ ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر حرف آتا ہے۔نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذٰلِکَ۔اسی طرح آپ لوگ اپنے ورود قادیان سے فائدہ اُٹھا کر یہ تحقیق بھی کریں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب