انوارالعلوم (جلد 6) — Page 514
جیسی فصیح عربی زبان میں کتاب لکھے انعام میں مقرر کی اور فیصلہ کا طریق نہایت سہل رکھا مگر باوجود اس کے کوئی مقابلہ پرنہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے سب کی ہمتیں پست کردیں اور زبانیں بند کر دیں اور آپ کا یہ معجزہ ہمیشہ کے لئے صداقت کے طلب گاروں کے لئے ایک نشان ہوگا اور اس کے منکروں کے خلاف حجت اور اس قسم کے معجزات آپ کے ہاتھ پر کئی رنگوں میں اور متعدد دفعہ ظاہر ہوئے۔دوسرا معجزہ :لاعلاج بیماروں کی شفاءکے متعلق دوسری مثال آپ ؑکی معجزات میں سے ایسے بیماروں کے اچھا کرنے کے متعلق بیان کرتا ہوں جو طبّی کرنے کے متعلق بیان کرتا ہوں جو طبّی طو ر پر لاعلاج سمجھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے:- کہ ایک لڑکا کئی ہزار میل سے یعنی حیدر آباد دکن کے علاقہ یادگیر سے اس مدرسہ میں پڑھنے کے لئے آیا جسے آپ نے اپنی جماعت کے لڑکوں کے لئے جاری کیا تھا اور غرض یہ تھی کہ اس مدرسہ میں جو لڑکے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آویں گے ان کی دینی تعلیم بھی ساتھ ساتھ ہوتی چلی جائے گی۔اس لڑکے کا نام عبد الکریم تھا۔اسے اتفاقاً باولے کُتّے نے کاٹ لیا اور اسے علاج کے لئے کسولی بھیج دیا گیا مگر جب وہ وہاں سے واپس آیا تو اسے دیوانگی کا دورہ ہوگیا اور تشنّج پڑنے لگا اور حالت خراب ہوگئی کسولی تار دیا گیا کہ اب اس کے لئے کیا کیا جائے؟ مگر وہاں کےڈاکٹر نے تار میں جواب دیا کہ افسوس عبدالکریم کے لئے اب کچھ نہیں ہوسکتا۔SORRY NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM حضرت مسیح موعودؑکو اس کا بہت صدمہ ہوا کہ یہ بچہ کی ماں بیوہ ہے اور اس نے نہایت شوق سے اس قدر فاصلہ سے دین کی خاطر اس کو یہاں بھیجا ہے اس طرح ضائع ہوجائے اور آپ نے اس کے لئے دُعا کی اور وہ اچھا ہوگیا اوراب تک زندہ ہے اور اپنا کاروبار کرتا ہے۔یہ وہ نشان ہے کہ علمی دنیا کو اس کی بے نظیری ماننے کے سوا چارہ نہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اس وقت تک اس قسم کی شفاء کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔بیشک دیوانگی کے دورہ سے پہلے علاج ہوجاتا ہے اوربعض بِلا علاج کے بھی دیوانگی کے حملہ سے بچ جاتے ہیں۔مگر دیوانگی کا دورہ ہو کر پھر شفاء آج تک کسی مریض کو نہیں ہوئی اور یہ ایسا زبردست معجزہ ہے کہ اس زمانہ کی علمی ترقی کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی زمانہ کے لئے مخصوص رکھا تھا تا سائنس کے دلدادوں پر اپنی قوت اوراپنے جلال کا اظہار کرے اوربتائے کہ مَیں خدا ہوں جو