انوارالعلوم (جلد 6) — Page 513
کیونکر پہنچ سکتے ہیں؟کہ خدا تعالیٰ آپ کو مہدی اور مسیح بنا دے؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یکدم عربی زبان کا وسیع علم دے دیا۔جس زبان میں کہ تمام اسلامی علوم ہیں اور ایک دن میں آپؑ کو چالیس ہزار الفاظ کا مادہ سکھایا گیا اور ایسا ہوا کہ باوجود اس کے کہ آپ کبھی عرب نہ گئے تھے اور نہ عربوں کی صحبت میں رہنے کا اپ کو اتفاق ہوا تھا اور نہ آپ ؑنے کبھی پہلے عربی عبارت لکھی تھی اور نہ ہندوستان میں عربی تعلیم کا جو طریق مروّج ہے اس سے عربی لکھنے یا بولنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔آپؑ نے روح القدس کی تائید سے فصیح عربی میں نہایت اعلیٰ درجہ کے مضامین پر مشتمل کُتب لکھنی شروع کیں اور مخالفوں کو بُلایا کہ تم لوگ جو برے بڑے علماءہو میرے مقابل عربی زبان میں کُتب لکھ کر دکھاؤمگر سب اس سے عاجز آگئے اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ اس کے پاس عرب پوشیدہ ہیں جو اسے عربی کُتب لکھ کر دے دیتے ہیں ورنہ اسے کچھ نہیں آتا۔تب آپؑ نے تمام دنیا کے لوگوں کو مقابلہ کے لئے للکارا اور کہا کہ میں صرف ہندوستان ہی کے علماء کو نہیں کہتا بلکہ دنیا بھر کے علماءکو جن میں عرب اور شام کے لوگ بھی شامل ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے۔کہتا ہوں کہ اگر وہ سچے ہیں اور میری تحریریں انسانی کام ہیں تو میرے مقابل پر عربی زبان میں کتب لکھیں پھر اگر ان کی کتب فصاحت اوربلاغت میں میری کتب سے بڑھ جائیں تو بیشک مجھے چاہیں سزا دیں لیکن میں قبل از وقت بتا دیتا ہوں کہ یہ کبھی میرا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔اے شہزادہ مکرم ! آپ اس دعوے کی عظمت اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی روسی جس نے کبھی انگلستان دیکھا ہو نہ امریکہ اور نہ انگریزی بولنے والوں کی سوسائٹی میں رہا ہو اور نہ کسی کالج میں اس نے انگریزی تعلیم پائی ہو اگر وہ تمام انگریزوں کو چیلنج دے کہ تم میں سے کوئی میرے مقابل پر آکر فصیح و بلیغ انگریزی میں کتب لکھے اور کوئی اس کا مقابلہ نہ کرسکےنہ منفردانہ بہت سے عالم مل کر تو کسقدر تعجب اور اچنبھے کی بات ہوگی؟ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ بعینہٖ اسی طرح ہوا ہے۔آپ نے بار بار علمائے مصر اور شام اور ہندوستان کو چیلنج دیا مگر کوئی شخص آپ کا مقابلہ نہ کرسکا۔بعض لوگوں نے مقابلہ پر کتب لکھنے کی بجائے آپ کی کتب کی غلطیاں نکالنی شروع کیں مگر ان سے اللہ تعالیٰ نے ایسی ایسی غلطیاں کروائیں کہ وہ اوربھی ذلیل ہوئے۔اور کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جبکہ لوگ ایک ایک سور وپے کے انعام کے لئے جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔آپ نے اپنے مخالفوں کو مقابل پر آکر کتب لکھنے کے لئے انعامات بھی مقرر کئے جو بعض دفعہ بڑی بڑی مقدار کے تھے یعنی آپ نے دس دس ہزار کی رقم اس شخص کے لئے جو آپ