انوارالعلوم (جلد 6) — Page 515
سب طاقتیں رکھتا ہوں چاہوں تو زندہ کردوں اور چاہوں تو مار دوں۔تیسرا معجزہ : مُردہ کو زندہ کرنا اے شہزدہ بلند اقبال ! ہمارا یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ اس دُنیا میں مُردہ نہیں زندہ کیا کرتا اور اگر مردہ زندہ کرتا تو کس طرح ممکن تھا کہ لوگ اس کی بادشاہت میں شک لاتے ؟ اور اس کی طاقت پر شُبہ کرتے؟ مثلاًیسوع مسیحؑ کی نسبت جو لکھا ہے کہ اس نے مُردے زندہ کئے۔اگر فی الواقع وہ مُردہ زندہ کرتا تو کیا کوئی عقلمند انسان یہ وہم کرسکتا ہے؟ کہ یہودی اس کے دشمن رہتے اور رومی اس کی غلامی کا جوأاپنی گردن پر نہ اُٹھاتے ؟ اس نے تو خود بتا دیا تھا کہ جن کو وہ زندہ کرتا تھا وہ حقیقی مُردہ نہ تھے بلکہ وہ لوگ جن کو لوگ مردوں کی طرح سمجھ بیٹھے تھے اوران کی زندگی سے مایوس ہوگئے تھے اس کے ہاتھوں سے شفاپاتے تھے۔چنانچہ جب وہ اس سردار کی بیٹی کو جس نے اس سے اپنی بیٹی کے زندہ کرنے کی درخواست کی تھی زندہ کرنے گیا تو اس نے یہ کہاتھا کہ:- کنارے ہو کہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے۔‘‘ (متی باب ۹ آیت ۲۴) پس مُردوں کے زندہ کرنے سے مراد مُردوں کی طرح کے لوگوں کا زندہ کرنا ہے اورایسے کئی نشان اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑکے ہاتھ پر دکھائے ان میں سے ایک واقعہ خان محمد علی خان صاحب کے لڑکے کا ہے۔خان صاحب موصوف موجودہ والئی ریاست مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں۔ان کے صاحبزادہ میاں عبدالرحیم خان ایک دفعہ ٹائیفائیڈ سے سخت بیمار ہوئے اور حالت سخت نازک ہوگئی اور ڈاکٹر اور طبیب مایوس ہوگئے۔تب اللہ تعالیٰ سے آپؑنے دُعا کی کہ وہ اسکو شفاء عطا فرمادے اور اسنے اس دُعا کو قبول کرکے آپ کو اطلاع دی کہ دُعا قبول ہوگئی ہے اور آپ نے خان محمد علی خان صاحب جاگیر دار مالیر کوٹلہ کو جو قادیان میں ہی ہجرت کرکے آبسے ہوئے تھے اسکے متعلق اطلاع بھی دے دی۔چنانچہ اسکے بعد اس بچہ کی حالت یکدم درست ہونی شروع ہوگئی اور وہ بالکل تندرست ہوگیا اور ڈاکٹروں کے خیالات اور آراء باطل گئیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہے اور اسوقت تعلیم کیلئے انگلستان گیا ہوا ہے۔اس واقعہ کو سترہ سال ہوگئے ہیں۔حالانکہ طبیب سمجھتے تھے کہ وہ چند ساعت کے مہمان ہے یہی مُردوں کے زندہ کرنے کا نشان ہے جو اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے ہاتھوں پر ظاہر ہوتا ہے ورنہ اصلی مُردے اس دُنیا میں واپس نہیں آیا کرتے۔