انوارالعلوم (جلد 6) — Page 19
کی مانند صاف ہے اور چراغ میں جو روغن ڈالا گیا ہے۔وہ مبارک درخت سے نکالا ہوا ہے۔ایسا درخت نہ مشرقی ہے نہ غربی۔یعنی وہ ایسا درخت ہےجس پر ہر طرف سے دھوپ پڑتی ہے۔ایسے درخت کی نشو و نما خوب ہوتی ہےاور وہ تیل بھی اپنی صفائی میں ایسا بڑھا ہوا ہےکہ خود بخود اس کو آگ لگ جائے جیسا کہ پٹرولیم ہوتا ہے۔ایسا چراغ جس میں اتنی صفات ہوں اسکی روشنی کا کیا کہنا۔اسلئے فرمایا کہ نورٌ علٰی نُور۔وہ نور ہے اورپھر اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اورنُور نازل ہوتا ہےاور پھر جسکو چاہتا ہے اللہ ہدایت دیتا ہے۔اللہ نے لوگوں کے لئے اسلام کا دعویٰ پیش فرمایا ہے کہ اسلام خدا کا نور ہے اور سچا مذہب ہے اور اس کی روشنی تمام مذاہب کی روشنیوں سے اعلیٰ ہے اور اس کی تعلیمات سب سے اکمل اور اتّم ہیں۔صداقتِ اسلام کی دلیل مگریہ سارا بیان ایک دعویٰ کی صورت میں ہے۔اس لئے آگے اس کی دلیل دیتا ہے فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ(النور:۳۷) یہ نُور ایسے گھروں میں ہے جو آج کسمپرس اور غریب اور ادنیٰ درجہ کے ہیں۔مگر خدا نے ان کے متعلق فیصلہ کردیا ہے کہ انکو اُٹھایا جائیگا اوران کو بلند کیاجائیگا۔اللہ کا ان مکانوں کوبلند کرنا اور عزت دینا ثبوت ہوگا اس امر کا کہ یہ مذہب اسلام خدا کی طرف سے ہے۔اسلام کی صداقت کیلئے یہ دلیل ہے کہ اس کے ماننے والے دُنیا میں معزز و مکرم ہونگے اوران کو ایک روشنی دی جائے گی۔جسکے مقابلہ میں دُنیا میں تاریکی ہوگی۔اسلام کےگھر بلند کئے جائینگے اور مخالفوں کے گھر انکے مقابلہ میں نیچے کئے جائینگے اوریہ اسلام کی صداقت کی دلیل ہزار ہاثبوتوں میں سے ایک ہے۔آنحضرت ؐکی حالات دعویٰ سے پہلے اب ہم دعویٰ اور دلیل کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی طرف دیکھتے ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت آپ کی دنیاوی حیثیت کوئی بڑی نہ تھی ابھی آپ شکم مادری ہی میں تھے کہ آپ ؐکے والد فوت ہوگئے تھے اوربہت چھوٹی عمر تھی کہ ماں فوت ہوگئی۔آپ کو کوئی بڑا ترکہ بھی نہیںملا تھااس کے بارے میں متفرق روایتیں ہیں۔زیادہ سےزیادہ جو کچھ آپ کو ملا وہ ایک اونٹ اور پانچ بکریاںتھیں۔آپ کی کوئی ذاتی تجارت نہیں تھی۔بلکہ بڑی عمر ہوئی تو حضرت خدیجہؓ کی تجارت *النور ۳۷